جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

ریپ کا نشانہ بننے والی 14 سالہ لڑکی کے ہاں بچی کی پیدائش ،پولیس کیس کی وجہ سے بچی کو والدہ کے حوالے کیا جائیگا یا نہیں؟سوالات اٹھ گئے ،ایک جوڑے نےدونوں کی کفالت کی پیشکش کردی

datetime 22  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے شہر راولپنڈی میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی 14 سالہ لڑکی نے ایک بچی کو جنم دیدیا،ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے بتایا کہ جمعرات کی رات متاثرہ لڑکی کو ہسپتال لایا گیا اور ان کے ہاں نارمل ڈلیوری ہوئی ہے۔

لڑکی اور ان کی نومولود بیٹی دونوں بالکل خیریت سے ہیں اور انھیں کل چھٹی دے دی جائے گی۔ڈاکٹر نے بتایا کہ پولیس کیس ہونے کی وجہ سے نومولود بچی کو ہسپتال کی نرسری میں ہی رکھا گیا ہے اور ابھی ماں کو نہیں دیا گیا۔اب پولیس کے سامنے یہ سوال ہے کہ کل ہسپتال سے چھٹی کے وقت نومولود کو اس 14 سالہ لڑکی کے حوالے کیا جائے یا پھر کسی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ذریعے کسی ادارے یا کسی جوڑے کی کفالت میں دیا جائے۔ہسپتال کی سکیورٹی پر موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ ایسے بچوں کو اگر ماں خود نہ پال سکے تو یا تو ایدھی والوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے یا پھر سویٹ ہوم کے ہسپتال کی ایم ایس اور اعلیٰ حکام اس کا فیصلہ کریں گے۔دوسری جانب قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ بچے کو ماں سے کوئی جدا نہیں کر سکتا جب تک ماں خود اس کی کسٹڈی کسی دوسرے کو نہ دے دے۔ اور اس سارے عمل میں کچھ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انھیں مارچ کے مہینے میں آنے کو کہا تھا لیکن گذشتہ شام ان کی بیٹی کی طبیعت اچانک بگڑنے کی وجہ سے اسے یہاں لایا گیا اور پھر بچی کی ولادت ہو گئی۔ہم چاہتے ہیں کہ نومولود کو کسی جوڑے کے سپرد کیا جائے اور لڑکی کو تعلیم اور رہائش کے لیے ایک فلاحی ادارے میں بھجوا دیا جائے تاکہ وہ اپنا مستقبل بہتر بنا سکے۔اس خبر کے سوشل میڈیا پر آنے کے بعد شہر میں رہنے والے ایک خاندان نے اس لڑکی اور اس کے پیدا ہونے والی بچی کی کفالت کرنے کی پیشکش کی ہے ۔

موضوعات:



کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…