منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

تیار رہو ہم پہلے سے بھی دوگنا بڑا مارچ لیکر آرہے ہیں، دیکھتے ہیں تم کیسے ہم کو روکتے ہو؟ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو تعفن پھیلاتی ہوئی لاوارث مردہ لاش قرار دیدیا

datetime 20  فروری‬‮  2020 |

سکھر(این این آئی) جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کی اس وقت حالت تعفن پھیلاتی ہوئی لاوارث مردہ لاش کی ہے، اب دوبارہ ہماری تحریک اس کی تدفین کیلئے ہے، ہمیں دھرنے والے شیخ رشید پہلے بھی ہمارے دھرے جانے کی بات کرتے تھے اکتوبر کے آزادی مارچ کے موقع پر ان کو انڈیا کے حملے کا خطرہ نظر آرہا تھا اب حالات کی خرابی کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں،

عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کرنے کا بیان الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی کہاوت کے مترادف ہے۔ مقامی ترجمان کے مولانا عبدالحق مہر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف مقدمہ درج کرنے اور دھرے جانے کے بیان دینے والوں کی اوقات ہم جانتے ہیں ایسی بات ہے تو میں حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ تیار رہو ہم پہلے سے بھی دوگنا بڑا مارچ لیکر آرہے ہیں۔ دیکھتے ہیں تم کیسے ہم کو روکتے ہو؟ قائد جمعیت نے کہا کہ پوری قوم موجودہ حکومت کو نااہل ناکامی سے بیزار ہوچکی ہے مہنگائی، بیرزگاری، بدامنی اور معاشی بحران خطرے کے نشان سے اوپر ہوچکی ہے عوام سیخ پا اور ماتم کناں ہیں، حالات حکومت کے کنٹرول سے نکل چکے ہیں، ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو مقدمات کی دھمکیاں دے کر ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب میڈیا کو بھی دبانے کی سازش کی جا رہی ہے حکمراں چاہتے ہیں کہ حکومت کو زہر دیکر شہیدکہا جائے۔ ہم نے شروع دن سے یزید وقت کی بعیت سے انکار کیا ہے۔ اب بھی اس جعلی سلیکٹڈ نااہل اور ناکام حکومت کو مسترد کرتے ہیں اور اسکے خلاف کھلا اعلان بغاورت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ نااہل حکومت کو مدینہ کی ریاست کی آڑ میں چھپنے نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ عوام اب موجودہ حکومت کے جھانسے اور دھوکے میں نہیں آئیگی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ 27 فروری کو کراچی میں سندھ کی تاریخ کا بڑا جلسہ کر کے حکومت کو بتادینگے عوام ہمارے ساتھ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…