جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

تیار رہو ہم پہلے سے بھی دوگنا بڑا مارچ لیکر آرہے ہیں، دیکھتے ہیں تم کیسے ہم کو روکتے ہو؟ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو تعفن پھیلاتی ہوئی لاوارث مردہ لاش قرار دیدیا

datetime 20  فروری‬‮  2020 |

سکھر(این این آئی) جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کی اس وقت حالت تعفن پھیلاتی ہوئی لاوارث مردہ لاش کی ہے، اب دوبارہ ہماری تحریک اس کی تدفین کیلئے ہے، ہمیں دھرنے والے شیخ رشید پہلے بھی ہمارے دھرے جانے کی بات کرتے تھے اکتوبر کے آزادی مارچ کے موقع پر ان کو انڈیا کے حملے کا خطرہ نظر آرہا تھا اب حالات کی خرابی کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں،

عمران خان کی جانب سے ان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کرنے کا بیان الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی کہاوت کے مترادف ہے۔ مقامی ترجمان کے مولانا عبدالحق مہر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف مقدمہ درج کرنے اور دھرے جانے کے بیان دینے والوں کی اوقات ہم جانتے ہیں ایسی بات ہے تو میں حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ تیار رہو ہم پہلے سے بھی دوگنا بڑا مارچ لیکر آرہے ہیں۔ دیکھتے ہیں تم کیسے ہم کو روکتے ہو؟ قائد جمعیت نے کہا کہ پوری قوم موجودہ حکومت کو نااہل ناکامی سے بیزار ہوچکی ہے مہنگائی، بیرزگاری، بدامنی اور معاشی بحران خطرے کے نشان سے اوپر ہوچکی ہے عوام سیخ پا اور ماتم کناں ہیں، حالات حکومت کے کنٹرول سے نکل چکے ہیں، ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو مقدمات کی دھمکیاں دے کر ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب میڈیا کو بھی دبانے کی سازش کی جا رہی ہے حکمراں چاہتے ہیں کہ حکومت کو زہر دیکر شہیدکہا جائے۔ ہم نے شروع دن سے یزید وقت کی بعیت سے انکار کیا ہے۔ اب بھی اس جعلی سلیکٹڈ نااہل اور ناکام حکومت کو مسترد کرتے ہیں اور اسکے خلاف کھلا اعلان بغاورت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ نااہل حکومت کو مدینہ کی ریاست کی آڑ میں چھپنے نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ عوام اب موجودہ حکومت کے جھانسے اور دھوکے میں نہیں آئیگی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ 27 فروری کو کراچی میں سندھ کی تاریخ کا بڑا جلسہ کر کے حکومت کو بتادینگے عوام ہمارے ساتھ ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…