کیماڑی میں ایک پراسرار زہریلی گیس پھیل رہی ہے‘ یہ گیس اب تک 14 لوگوں کی جان لے چکی، ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ گیس کا دائرہ بھی کیماڑی سے کھارا در اور رنچھوڑ لائین تک پھیل چکا ہے‘ یہ گیس کیا ہے؟ یہ کہاں سے نکل رہی ہے ‘ا س میں کون کون سے زہریلے مادے پائے جاتے ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟ یہ کس کا فیلیئر ہے‘ یہ کس کی ذمہ داری ہے، جاوید چودھری کا تجزیہ

  منگل‬‮ 18 فروری‬‮ 2020  |  21:59

اسلام آباد (پروگرام ، کل تک )اتوار کی رات چھ بجے سے کراچی کے علاقے کیماڑی میں ایک پراسرار زہریلی گیس پھیل رہی ہے‘ یہ گیس اب تک 14 لوگوں کی جان لے چکی ہے جب کہ متاثرین کی تعداد 234 تک پہنچ چکی ہے اور ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ گیس کا دائرہ بھی کیماڑی سے کھارا در اور رنچھوڑ لائین تک پھیل چکا ہے‘ یہ گیس کیا ہے؟ یہ کہاں سے نکل رہی ہے ‘ ۔۔ا س میں کون کون سے زہریلے مادے پائے جاتے ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟ ہم بائیس کروڑ لوگوں


کا ملک تین دن گزرنے کے باوجود یہ تعین نہیں کر سکا‘ہماری صوبائی حکومت 14 ہلاکتوں کے بعد آج جاگی ہے‘ وزیراعلیٰ نے نوٹس لے لیا اور کمشنر کراچی کو رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی جب کہ وفاقی حکومت اب تک خاموشی کی چادر تان کر سو رہی ہے‘ پولیس کا خیال ہے بندرگاہ پر بحری جہاز سے سویابین آف لوڈ کیا جا رہا ہے‘ سویا بین کی ڈسٹ نے لوگوں کی جان لینا شروع کر دی جب کہ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کا کہنا ہے یہ گیس ریلوے کالونی کے آئل سٹوریج یارڈز سے نکل رہی ہے یعنی آپ گورننس کا فیلیئر اور حکومتوں کی نالائقی ملاحظہ کیجیے‘ ہم تین دن میں گیس کا سورس اور قسم دونوں تلاش نہیں کر سکے ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی صورت حال ہے‘ ڈاکٹر بھی پریشان ہیں‘ یہ سانس کی بیماریوں کے شکار مریضوں اور گیس کا نشانہ بننے والوں میں فرق نہیں کر پا رہے‘ عوام منہ پر ماسک چڑھا کر پھر رہے ہیں جب کہ حکومت نوٹس لے رہی ہے‘ کیا یہ ایک کیس ہمارے سٹیٹ لیول کے فیلیئر کی مثال نہیں‘ کیا یہ ثابت نہیں کرتا پاکستان میں سرے سے ادارے ہی نہیں ہیں اور اگر ہیں تو یہ کام نہیں کر رہے اور ہم پر اگر کوئی کرائسس آ جائے تو ہم ہفتہ ہفتہ (اس) کرائسس کی نوعیت کا اندازہ نہیں کر سکتے۔یہ کس کا فیلیئر ہے‘ یہ کس کی ذمہ داری ہے اور 14 لوگوں کی ہلاکت اور اڑھائی سو کی بیماری کس کے کھاتے میں جائے گی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جب کہ آج چودھری شوگر مل کے ایک اور ملزم یوسف عباس کو بھی ضمانت پررہا کر دیا گیا‘ نیب 48 دن میںان کے خلاف ثبوت پیش نہیں کر سکا‘ کیا حکومت کا احتسابی بیانیہ (مکمل) طور پر فنا ہو رہا ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔ ہمیں ہر مشکل وقت کے لیے تیار رہنا چاہیے ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے پولیو وائرس اور ہمیں پوری امید ہے کہ پاکستان جیتے گا پولیو ہارے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کارٹرفارمولا

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎