پاکستان بین الاقوامی برادی سے مستقبل میں افغانون کی واپسی کیلئے روڈ میپ بنانے کوتیار ہے،افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، زبردست اعلان کر دیا گیا

  پیر‬‮ 17 فروری‬‮ 2020  |  23:52

اسلام آباد(آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ پاکستان بین الاقوامی برادی سے مستقبل میں افغانون کی واپسی کیلئے روڈ میپ بنانے کوتیار ہے،افغانستان اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں،دونون نے اکٹھا رہنا ہے،پاکستان اور افغانستان مل کر ایک پائیدار امن کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاہے کہ ہم امن کے موقع کو ضائع نہیں کر سکتے،اگر ایسا ہوا تو افغان ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے،امن کے حصول جے بعد ہم افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر کی ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں،اگر


قیام امن ہو جاتا ہے تو دہشت گرد گروہوں کو علیحدگی کی جانب دھکیلنے میں مدد ملے گی، پاکستان، ایران اور افغانستان کو مل کر افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ایک باقاعدہ معنی خیز طریقہ کار اپنانا ہو گا،پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل میں تصفیے کے لیے ہمارے دفاتر موجود ہیں۔پیر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برایے مہاجرین فلپو گرانڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان بین الاقوامی برادی سے مستقبل میں افغانون کی واپسی کیلئے روڈ میپ بنانے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں،دونوں نے اکٹھا رہنا ہے،پاکستان اور افغانستان مل کر ایک پائیدار امن کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکہ نے بھی سمجھ لیا ہے کہ اب انہیں اپنا سامان سمیٹنا اور واپس جانا ہے،واپسی کے فیصلہ کے باوجود انہیں ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شرپسندوں کے منصوبوں کو ناکام بنانا ہو گا۔انتونیو گوتریس نے کہاکہ پاکستانیون نے مہاجرین کیلئے اپنے دلوں اور گھروں کے دروازے کھولے،افغان مہاجرین اپنے ہی ملک میں ابتر صورتحال میں رہ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم امن کے اس موقع کو ضائع نہیں کر سکتے،اگر ایسا ہوا تو افغان ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ امن کے حصول جے بعد ہم افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کر کی ترقی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ فلیپو گرانڈی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہاکہ ہمارے پاس اس وقت ایک اہم موقع ہے،افغان قوم بہت مایوس ہو چکی ہے اس کو مزید. مایوس نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ دسمبر میں پاکستان کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کے لیے ایک بڑا فورم کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈونرز کو کہوں گا کہ وہ اس موقع کو افغانستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ایران نے افغان مہاجرین کی بیحد امداد کی جس پر ان کی بھرپور حمایت کی جانی چاہئے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہاکہ ہم افغانون کیلئے افغانوں کا اپنا مفاہمتی امن چاہتے ہیں،اگر قیام امن ہو جاتا ہے تو دہشت گرد گروہوں کو علیحدگی کی جانب دھکیلنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ ڈونرز کے لیے یہی درست وقت ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا شراکت دار بنائیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہاکہ افغان مہاجرین کے مسئلے کا ترجیحی حل ان کی رضاکارانہ واپسی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان، ایران اور افغانستان کو مل کر افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ایک باقاعدہ معنی خیز طریقہ کار اپنانا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل میں تصفیے کے لیے ہمارے دفاتر موجود ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سب سے اہم کردار افغان عوام نے ادا کرنا ہے،اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ اس سیاسی حل کے لیے کمپرومائز بھی کرنے پڑتے ہیں،مفاہمتی عمل بہترین منصوبہ بندی سے طے شدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پیدا اور جوان ہونے ولے افغان پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ بانڈ قائم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کار کا اکردار ادا کر رہے ہیں،ہم ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کا رول ادا کر رہے ہیں۔ زیر خارجہ نے کہاکہ ہم افغانوں کی واپسی کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کا اپنا گھر ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے افغان مہاجرین فلیپو گرانڈی نے کہاکہ افغان نوجوانوں کی واپسی کے لئے انہیں وہاں بہتر مستقبل کی امید دینا ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ انہیں بتانا ہو گا کہ افغانستان میں بے شمار مواقع موجود ہیں اس مقصد کے لئے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎