منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

چھاپے بند کریں ورنہ چینی کی فروخت بند کر دی جائے گی، جرات ہے تو یہ کام کرکے دکھائیں، تاجروں نے حکومت کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) آل پاکستان انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل نعیم میر نے کہا ہے کہ مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں جاری نام نہاد حکومتی کاروائیاں قابل مذمت ہیں، چینی کی دکانوں پر چھاپہ مار کاروائیاں بند کی جائیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ

چینی کی اوسط ایکس مل پرائس 76 روپے فی کلو ہے،کیرج اخراجات 2 روپے فی کلو تک ہیں جبکہ ہول سیل سے ریٹیلرز تک کا اضافی کرایہ خرچہ 50 پیسے فی کلو ہے،ہول سیلرز کا نفع 25 پیسے فی کلو اور ریٹیلرز کا نفع 1 روپے فی کلو تک ہے،چینی کی ریٹیل قیمت فروخت 75۔79 روپے تک بنتی ہیجبکہ اس قیمت میں 17 فیصد سیلز ٹیکس بھی شامل ہے۔ نعیم میر نے کہا کہ حکومت چھاپے مارنے کے بجائے بتائے کہ چینی کونسے ریٹ پر فروخت کرنی ہے،چینی سستی کرنی ہے تو حکومت 17 فیصد سیلز ٹیکس ختم کردے یا پھر حکومت جرات پیدا کرے اور ملک بھر کی 88 شوگر ملوں کو قومیانے کا اعلان کرے۔جب ملوں سے سستی چینی ملے گی تو قیمت خود بخود نیچے آجائے گی۔نعیم میر نے کہا کہ حکومت کو معاشی ناکامیوں کی ذمہ داری تاجروں پر ڈال کر راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیں گے، اگر حکومت نے اوچھے ہتھکنڈے ختم نہ کئے تو ملک بھر کی دکانوں پر چینی کی فروخت بند کردی جائے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…