بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اسٹیٹ آئل کا مالی بحران شدت اختیار کر گیا، کراچی سے فضائی آپریشن معطل ہونے کا خدشہ، حکومت کو خبردار کر دیا گیا

datetime 26  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان اسٹیٹ آئل کا مالی بحران شدت اختیار کر گیا، مختلف اداروں پر 335 ارب روپے واجب الادا ہیں، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز بھی واجبات کی ادائیگی میں مکمل ناکام ہوگیاہے، کراچی سے فضائی آپریشن معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پی ایس او نے حکومت کو خبردار کر دیا،ادارے نے زرتلافی کے طور پر 28 ارب روپے بھی مانگ لیے۔

پاکستان اسٹیٹ آئل کے انتظامی بورڈ نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مقامی اور غیر ملکی پروازوں کو تیل کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو سکتی ہے کیونکہ کمپنی کو اس وقت سرمائے کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کے وہ واجبات ہیں جو توانائی کے شعبے سے وابستہ اداروں نے ادا کرنا ہیں۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کو مختلف اداروں اور کمپنیوں کی جانب سے 355 ارب روپے ادا کرنے ہیں اسی وجہ سے انتظامی بورڈ کے چیئرمین نے فنانس سیکرٹری کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا ہے کہ وہ کمپنی کی جانب سے تیل کی فراہمی روکی جاسکتی ہے جس سے فضائی آپریشن معطل ہو سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس او کو سوئی سدرن گیس پائپ لائنز، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز اور حکومتی اداروں نے 15 دسمبر 2019 تک 335 ارب 70 کروڑ روپے ادا کرنے تھے۔ اتنے زیادہ واجبات ادا نہ ہونے کی وجہ سے پی ایس او کے لیے یہ مشکل ہوتا جارہا ہے کہ وہ بلاتعطل تیل کی فراہمی کو جاری رکھ سکے اور خطرہ اس بات کا ہے کہ کہیں ادارہ مقامی طور پر اور غیر ملکی سطح پر ادائیگیاں کرنے سے قاصر نہ رہ جائے یعنی کہیں ڈیفالٹ نہ کر جائے اور اس کے نتیجے میں جہاں دیگر اداروں کو تیل کی فراہمی بند ہوگی وہیں مقامی اور غیر ملکی ایئرلائنز کو بھی تیل کی فراہمی بند ہو سکتی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے پی ایس او کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں 28 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،

یعنی اضافی ادا کرنے پڑے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز دی تھی کہ 28 ارب روپے حکومت کی جانب سے پی ایس او کو زرتلافی کے طور پر اگر ادا کر دیئے جائیں تو ادارے کی مالی حالت میں کچھ بہتری آسکتی ہے۔ اس تجویز پر ای سی سی کے اجلاس نے رقم کی فراہمی آئندہ مالی سال میں رکھے جانے کی تجویز پیش کی اور پیٹرولیم سیکرٹری کو ہدایت بھی کی کہ وہ رواں مالی سال کے دوران پی ایس او کے واجبات کو ادا کرنے کے لیے ممکنہ حل اور راستے تلاش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…