بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر پاکستان کو ایک اور کامیابی مل گئی،بھارت کا اصل چہرہ ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب

  اتوار‬‮ 26 جنوری‬‮ 2020  |  22:40

لاہور(این این آئی) گور نر پنجاب چوہدری محمدسرورکے یورپی پار لیمنٹ کے نائب صدر فابیوماسیموکاستالدو سمیت دیگر یورپی اراکین پار لیمنٹ سے رابطے اور ملاقاتیں رنگ لے آئیں۔ متنازعہ بھارتی شہر یت قانون کیخلاف قرار داد پر154اراکین یورپی پار لیمنٹ نے دستخط کر دیئے جبکہ رواں ہفتہ بر سلز میں یورپی پار لیمنٹ کے اجلاس میں قرار داد منظوری کیلئے پیش کی جائیگی۔ اتوار کے روز گور نر ہاؤس لاہور سے جاری اعلامیہ کے مطابق گور نر چوہدری محمدسروراور یورپی پار لیمنٹ کے نائب صدر فابیوماسیموکاستالدو کے درمیان رابطہ ہوا ہے اور گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور کی یورپی پار لیمنٹ


کے نائب صدر فابیوماسیموکاستالدو سمیت درجنوں یورپی اراکین پار لیمنٹ سے نومبر اور دسمبر میں ہونیوالی ملاقاتوں رابطوں اور یورپی پار لیمنٹ کے نائب صدر فابیوماسیموکاستالدو کے کامیاب دورہ پاکستان کے بعد یورپی پار لیمنٹ کے نائب صدر فابیوماسیموکاستالدو کی قیادت میں 154یورپی اراکین پار لیمنٹ نے بھارت میں متنازعہ قانون،بھارتی مسلمانوں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی بدتر ین خلاف ورزیوں کے خلاف قرار داد تیار کر لی ہے جو بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر پاکستان کی ایک اوربڑ ی کامیابی ہے۔ گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف یورپی پار لیمنٹ میں قرار داد رواں ہفتہ جمعرات کو منظوری کیلئے پیش کی جائیگی قرار داد کی منظوری کیلئے میں خود بھی یورپی پار لیمنٹ کے نائب صدر سمیت دیگر یورپی اراکین پار لیمنٹ سے ٹیلی فونک رابطوں میں ہوں مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ یہ قرارداد منظور ہوجائیگی اوربھارت کا اصل چہرہ ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوجائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ بھارت کا متنازعہ شہریت قانون انسانیت اور انسانی حقوق کا قتل عام ہے اور ہر پاکستانی خون کے آخری قطر ے تک کشمیر ی بہن بھائیوں اور اپنے بھارتی مسلمانوں کیساتھ ہے۔ گورنر نے کہا کہ نائب صدر فابیو نے بھی مجھے یقین دہانی کروائی ہے کہ بھارتی مسلمانوں اور کشمیر یوں کیساتھ ہونیوالے ظلم وزیادتی پر یورپی پار لیمنٹ کسی صورت خاموش نہیں رہیگی اور بھارت کو مجبور کیا جائیگا وہ بھارتی مسلمانوں اور کشمیر یوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے اور مظالم کا سلسلہ بھی فور ی طور پر بند کیا جا ئے۔

موضوعات: