نقیب اللہ قتل کیس، ٹرائل کورٹ تین ماہ میں مقدمے کا فیصلہ کرے، حکم دے دیا گیا

  جمعہ‬‮ 24 جنوری‬‮ 2020  |  22:51

کراچی(این این آئی) سندھ ہائی کورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ٹرائل کورٹ تین ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ کرے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس ارشاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نےنقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم پولیس اہلکارمحمد اقبال سمیت پانچ ملزمان کی ضمانت مسترد کردی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شوائد کی موجودگی کے باعث درخواست ضمانت مسترد کی گئی ملزمان کے خلاف


ٹرائل کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے،ملزمان میں غلام نازک، اللہ یارکاکا، شکیل فیروزی اور رئیس عباس زیدی شامل ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ تین ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ کرے، پولیس اہلکار ملزم اللہ یار،غلام نازک، شکیل فیروز ودیگر نے درخواست دائر کی تھی۔واضح رہے کہ کیس میں 13 پولیس اہلکار و افسران عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں جب کہ راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر سمیت 5 ملزمان ضمانت پر ہیں۔پولیس کے مطابق ملزمان پر اغوا اور قتل سمیت دیگر الزامات ہیں جب کہ ملزمان کے خلاف تھانہ سچل میں محمد خان کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔27سالہ نسیم اللہ عرف نقیب اللہ محسود کو 13 جنوری 2018 کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹان میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران جاں بحق کر دیا گیا تھا جب کہ اس کی لاش کی شناخت 17 جنوری کو ہوئی تھی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎