بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مرضی سے اسلام قبول کیا اور اسے کسی نے اغوا نہیں کیا نو مسلم علیزہ کو شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت

datetime 21  جنوری‬‮  2020 |

جیکب آباد(این این آئی)سندھ کے شہر جیکب آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے ہندو مذہب ترک کر کے مسلمان ہونے والی سابق مہک کماری اور موجودہ علیزہ کو شوہر کے ساتھ رہنے کے اجازت دے دی ہے۔منگل کے روزسابق مہک کماری اور موجودہ علیزہ کوجیکب آباد کی عدالت میں دوبارہ پیش کیا گیا، مہک کے گھر والوں نے مقدمہ درج کرایا تھا کہ لڑکی نابالغ ہے اسے اغوا کیا گیا ہے۔علیزہ نے عدالت میں اپنا

حلفیہ بیان دیا ہے کہ اس نے مرضی سے اسلام قبول کیا اور اسے کسی نے اغوا نہیں کیا ہے۔اپنے بیان میں علیزہ نے یہ بھی کہا کہ میرے شوہر اور خاندان کے خلاف میرے اغوا کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔علیزہ نے عدالت سے تحفظ فراہم کر کے مقدمات ختم کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔واضح رہے کہ مبینہ اغوا کا مقدمہ مہک کماری کے گھر والوں نے دائر کرایا تھا۔لڑکی نے ایک ویڈیو بیان میں اپنی عمر 18 سال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے مرضی سے اسلام قبول کر کے شادی کی ہے۔علیزہ کو گزشتہ روز سول اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، اس موقع پر لڑکی کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔تاہم عدالت نے اس کے شوہر علی رضا سولنگی کی غیر حاضری پر فریقین کومنگل  کے روزدوبارہ طلب کیا تھا۔مہک کماری کے والد وجے کمار نے علی رضا سولنگی کے خلاف سول لائن تھانے میں اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…