بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے کسی کی جاگیر نہیں ، کیوں نہ پاکستان ائیرفورس کو ہی دیدیں ؟ سپریم کورٹ نے سی ای او ایئر مارشل ارشد محمود کی بحالی کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا

datetime 21  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ائیر مارشل ارشد محمود ملک کو بحال کرنے کی درخواست مسترد کردی۔سپریم کورٹ میں قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد محمود کو کام سے روکنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے سی ای او پی آئی اے ارشد محمود کو کام پر بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی تاہم پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کام کرنے کی اجازت دے دی۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے مقدمہ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سی ای او پی آئی اے کا مقدمہ نج کاری کیس کے ساتھ منسلک کردیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے میں سفر کرکے حال تو دیکھیں، پی آئی اے کسی کی جاگیر نہیں قوم کا اثاثہ ہے، سی ای او کو عارضی انتطامات کے تحت لایا گیا تھا، یہ موصوف خود ڈیپوٹیشن پرآئے اور دس بندوں کو ساتھ لے آئے، پی آئی اے چیئرمین قانون کے مطابق آنا چاہیے، حکومت طریقہ کار کے مطابق پی آئی اے کانیا سربراہ تعینات کرے، بہتر ہے ایئر مارشل پیک اپ کرلیں، معلوم نہیں کوئی ایئر مارشل پی آئی اے کو کیسے چلائے گا، حکومت کیوں پی آئی اے کو چلا رہی ہے، پی آئی اے پاکستان ائیرفورس کو ہی دے دیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ای او کی تقرری کیلئے اشتہار دیا گیا تھا، ارشد محمود کو طریقہ کار کے مطابق پی آئی اے میں سی ای او کنفرم کردیا گیا تھا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ جب سے یہ آئے ہیں سو فیصد کرایہ بڑھا دیا، دیکھنا ہوگا کہ اشتہار کو کوئی خاص ڈیزائن دے کر تو جاری نہیں کیا گیا.

پرانے اشتہارات کا بھی جائزہ لیں گے۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 31 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد محمود کو کام کرنے سے روک دیا تھا اور ادارے میں نئی بھرتیوں، ملازمین کو نکالنے اور تبادلے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ارشد محمود نے اپنے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ارشد ملک کے خلاف ایئر لائنز سینئر اسٹاف ایسوسی ایشن (ساسا) کے جنرل سیکریٹری نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…