بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پروٹوکول کی نفی کرنے والے آج درجنوں گاڑیوں کے قافلے میں گھومتے ہیں، اتحادی اور وزراء بھی حکومت کی ناکام پالیسیوں پر پھٹ پڑے

datetime 18  جنوری‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب و صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکومت کے اتحادی اور وزراء بھی ناکام حکومتی پالیسوں پر پھٹ پڑے ہیں۔ کرپشن اور رشوت خوری کا بازار آج بھی گرم ہے۔ لوگوں کو اپنے جائز کام کروانے کے لیے بھی نذرانے پیش کرنے پڑتے ہیں۔ آٹا 70روپے فی کلو ہوگیا۔ غریب عوام کے منہ سے روٹی کا آخری نوالہ بھی چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال ہو نے کوہیں مگر عوام کا ایک بھی طبقہ حکمرانوں سے خوش نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گزشتہ روزمختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ریلیف نام کی کوئی چیز میسر نہیں۔ مہنگائی نے عوام کا برا حال کردیا ہے۔ ملک میں سونامی کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ پورا پاکستان مافیا کے قبضے میں ہے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص سراپا احتجاج ہے۔ پروٹوکول کی نفی کرنے والے آج درجنوں گاڑیوں کے قافلے میں گھومتے پھرتے ہیں۔ ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل سمیت تمام ادارے خسارے میں چل رہے ہیں۔ حکمران اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ان کو اونے پونے ہاتھوں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے معیشت میں بہتری کے حوالے سے اعداد و شمار غلط بیانی اور عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہیں۔ تمام بڑی صنعتوں کی پیداوار مالی سال کے پہلے 5ماہ کے دوران سست روی کا شکار رہی ہے۔ مہنگائی ملک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ 2019ء میں 5لاکھ 53ہزار افراد بہتر روزگار کے لیے بیرون ملک شفٹ ہوگئے ہیں۔ جبکہ گزشتہ پچاس برسوں میں ایک کروڑ سے زائد افراد امریکہ، کینیڈ ا، عرب ممالک اور یورپی یونین کے مختلف ممالک میں شفٹ ہوچکے ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں ترقی کی شرح سب سے کم پاکستان کی ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں کی تمام معاشی پالیسیاں فیل ہوچکی ہیں۔ حکمرانوں کے پاس ڈنگ ٹپاؤ اور دکھاوے کے اقدامات کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ 2019میں سرکاری قرضے کا کل حجم ملکی جی ڈی پی کا 78فیصد رہا جبکہ گزشتہ چار سالوں میں 25ارب 59کروڑ اور اسی لاکھ ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کیے گئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…