بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے چرچے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی وزارت کی کارکردگی سے خوش

datetime 18  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت انسانی حقوق نے پاکستان میں قیدیوں کی حالت زار کے متعلق اپنی رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے نبیؐکا فرمان دہرایا کہ100 مجرم چھوٹ جائیں لیکن ایک بیگناہ کو سزا نہ ہو، ہر مذہب کہتا ہے کہ انسان کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کرو۔چیف جسٹس نے کہاکہ

وزارت انسانی حقوق نے بہت اچھا کام کیا اور اس سے کافی چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم کا جیل میں ڈالنے کا مقصد ٹارچر کرنا نہیں ہوتا۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے سزا یافتہ بھی اگر بیمار ہو جائے اسکو رہا کرے، مجرم کو بھی جینے کا حق ہے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کمیٹی بنائی تھی تو اب فیصلہ بھی دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ ہماری رپورٹ پر ایکشن لیں گے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت نے بھی قیدیوں کو سہولت دینے کیلئے بہت سے اقدامات کیے اور اب انہیں جیلوں میں کام کرنے کی اجرت دی جائے گی۔شیریں مزاری نے کہا کہ قیدیوں کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی نہ ہونے کے سبب ان کے اہلخانہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ عدالت میں عام قیدیوں کی بات ہورہی تھی، سیاسی قیدیوں کی نہیں، سیاسی اور امیر قیدیوں کی ضمانتیں ہوچکی ہیں۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…