بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے چرچے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی وزارت کی کارکردگی سے خوش

datetime 18  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت انسانی حقوق نے پاکستان میں قیدیوں کی حالت زار کے متعلق اپنی رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ قیدیوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے نبیؐکا فرمان دہرایا کہ100 مجرم چھوٹ جائیں لیکن ایک بیگناہ کو سزا نہ ہو، ہر مذہب کہتا ہے کہ انسان کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کرو۔چیف جسٹس نے کہاکہ

وزارت انسانی حقوق نے بہت اچھا کام کیا اور اس سے کافی چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم کا جیل میں ڈالنے کا مقصد ٹارچر کرنا نہیں ہوتا۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے سزا یافتہ بھی اگر بیمار ہو جائے اسکو رہا کرے، مجرم کو بھی جینے کا حق ہے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کمیٹی بنائی تھی تو اب فیصلہ بھی دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ ہماری رپورٹ پر ایکشن لیں گے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت نے بھی قیدیوں کو سہولت دینے کیلئے بہت سے اقدامات کیے اور اب انہیں جیلوں میں کام کرنے کی اجرت دی جائے گی۔شیریں مزاری نے کہا کہ قیدیوں کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی نہ ہونے کے سبب ان کے اہلخانہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ عدالت میں عام قیدیوں کی بات ہورہی تھی، سیاسی قیدیوں کی نہیں، سیاسی اور امیر قیدیوں کی ضمانتیں ہوچکی ہیں۔‎



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…