جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کردیا

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

پشاور(آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع تک مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی توسیع اورلیز کے لئے درخواستوں کے آئن لائن سسٹم کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں باضابطہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ صوبائی وزیر محب اللہ خان، وزیراعلیٰ کے مشیربرائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر خان، سیکرٹری معدنیات نظر حسین شاہ و دیگر متعلقہ حکام نے تقریب میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ضم شدہ اضلاع کے لئے بنائے گئے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت درخواستوں کے حصول کے لئے بٹن دبا کر آن لائن سسٹم کا باقاعدہ اجراء کیا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ باضابطہ قانون سازی کے ذریعے قبائلی عوام کو ان کے معدنی وسائل پر پہلا حق دیا گیا ہے، جس سے حکومت کا قبائلی عوام سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شفاف اور آن لائن سسٹم کے اجراء سے ضم شدہ اضلاع کے معدنی وسائل سے متعلق تمام تر افواہیں اور پروپیگنڈے دم توڑ چکے ہیں۔ صوبائی حکومت قبائلی عوام کے حقوق کا بھر پور تحفظ یقینی بنارہی ہے۔ محمود خان نے واضح کیا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں کئی قسم کے بیش قیمت معدنی ذخائر موجود ہے، مگر دہشتگردی کی حالیہ لہر نے دیگر شعبوں کی طرح شعبہ معدنیا ت کو بھی بہت نقصان پہنچایا تھا، اب سابقہ فاٹا خیبرپختونخوا کا حصہ بن چکا ہے۔ انضمام کے فوری بعد صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ ایسی قانون سازی کی جائے جس سے قبائلی عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ اس مقصد کے لئے 2019میں باضابطہ بل پاس کیا ہے، جس کی رو سے سابقہ فاٹا میں معدنی وسائل پر پہلا حق مقامی لوگوں کو دیا گیا ہے۔ قانون سازی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد قبائلی اضلاع میں کان کنی کے لئے درخواستوں کے حصول کا سلسلہ آج سے شرو ع کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس قانون کی توسیع سے قبائلی اضلاع میں روزگار کے وسیع مواقع پیداہوں گے، اور ترقی کا ایک نیا سفر شروع ہو گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…