بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

ایک لاکھ 40ہزار سرکاری ملازمین وظیفہ وصول کرنیوالوں میں ملوث پائے گئے، تعلق کن وزارتوں سے نکلا؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے انکشاف کیا ہے کہ ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین بھی وظیفہ وصول کرنے والوں میں شامل تھے۔ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریلویز، پاکستان پوسٹ اور بی آئی ایس پی کے ملازمین ان میں شامل تھے۔

وفاقی اور صوبائی محکموں کے ملازمین بھی اس وظیفے وصول کرنے والوں میں شامل تھے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ ان تمام سرکاری ملازمین کی فہرستیں مرتب کی جا رہی ہیں، صوبائی چیف سیکرٹریز کو ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ملازمین کو اسی روز شوکاز نوٹس جاری کردیا تھا جب ان کے وظیفے وصول کرنے کا علم ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم کے مطابق ان سرکاری ملازمین کے نام بہت جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔مزید تفصیلات بتاتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور اسے نادرا سے لنک کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مستحقین کی گاڑیوں، جائیداد اور بیرون ملک دوروں کی تفصیلات اکٹھی کی گئیں جس سے پتا چلا کہ کچھ لوگ مستحق نہیں تھے۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ ایسے افراد کی مکمل جانچ پڑتا کے بعد انہیں بی آئی ایس پی سے نکال دیا گیا، نئے افراد کو بھی پوری طرح چیک کرنے کے بعد مستحقین میں شامل کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…