بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

شہبازشریف کی واپسی کا اعلان کر دیا گیا، 4 ووٹ اِدھر اُدھر ہو جائیں تو حکومت گر جائے گی، رانا ثناء اللہ نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

فیصل آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر ایم این اے راناثنااللہ خاں نے کہاہے کہ میاں شہباز شریف واپس آرہے ہیں جلد مشترکہ اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس طلب کیا جائے گاحکومت ہر طرح ناکام ہوچکی ہے، مسلم لیگ ن میں کوئی اختلافات نہیں، مسلم لیگ ن آج بھی ایک بڑی جماعت ہے،آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوگی،نواز شریف صحت مند ہوتے ہی واپس آجائیں گے،

فرودس عاشق اعوان اپنا خیال رکھیں ان کے پرس سے بھی کچھ نکل سکتا ہے ان ہاؤ س تبدیلی جمہوری عمل سے آنی چاہئے،پی ٹی آئی کی حکومت چار ووٹوں پر کھڑی ہے آرمی ایکٹ کی حمایت پرووٹرزاورسپورٹرزکی ناراضی برداشت کرنی چاہئے۔آج ووٹرزہی ووٹ کوعزت دوکی بات کررہاہے، عنقریب اپوزیشن کامشترکہ اجلاس بلاکراس کاازالہ کیاجائے گا۔آن لائن کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق ایڈمنسٹریٹر مارکیٹ کمیٹی،مسلم لیگی رہنما چوہدری علی اصغر بھولا گجر(شہید) کی پانچویں برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر وسابق وفاقی وزیر حاجی محمد اکرم انصاری سمیت مسلم لیگ ن کے موجودہ وسابق اراکین اسمبلی چوہدری شہبازبابرگجر، چوہدری شفیق احمدگجر،میاں اجمل آصف،محمدنوازملک،حاجی الیاس انصاری،،سینئرمسلم لیگ ی رہنمااسراراحمدمنے خان،میاں ضیاالرحمن، راناشعیب ٹھاکراوردیگربھی موجودتھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف بنائے گئے منشیات کے بے بنیادکیس کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بنناچاہئے سپیکرقومی اسمبلی نے ان سے درخواست طلب کرلی ہے جوآج دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ ان ہاؤس تبدیلی جمہوری عمل سے آنی چاہئے پی ٹی آئی حکومت4ارکان پرچل رہی ہے اگروہ مائنس ہوجائیں تودھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔تین سے 6ماہ سے زیادہ وقت نہیں لگے گابہت کچھ تبدیل ہوسکتا ہے۔میاں شہبازشریف بہت جلدواپس آئیں گے اورمتحرک بھی ہوں گے،

آرمی ایکٹ کے لئے مسلم لیگ ن ہنگامی اجلاس کاحصہ بنی مگراسے اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ حمایت کافیصلہ میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف کانہیں بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کا ہے قانونی سازی کی ضرورت نہیں تھی مگر سپریم کورٹ کے حکم پرہواہے۔وقتی طورپرہم سے غلطی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کوایران کی حمایت کرنی چاہئے تھی اوراس کے لئے پارلیمنٹ سے رائے لی جاتی امریکہ کوکہا جا سکتا تھا کہ

اس نے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔مگرحکومت کی کوئی پالیسی نہیں۔معیشت کابیڑہ غرق کردیاگیامہنگائی میں ریف کی کوئی سہولت نہیں۔ٹیکس کے معاملات پرتاجرکمیونٹی بھی پریشان ہے۔ اپوزیشن کواعتمادمیں نہ لینے کی وجہ سے ہی خواجہ آصف پربھی تنقیدکی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی مشیراطلاعات فرودس عاشق اعوان کے بیان کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ وہ بھی اپناخیال رکھیں ان کے پرس سے بھی کچھ نکل سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…