جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

کاشانہ میں خصوصی بیڈ رومز بنانے کے فیصلے پر کیا کام کیا؟ میرا جرم کیا ٹھہرا؟ بڑی سے بڑی سزا بھگتنے کو تیار ہوں، افشاں لطیف کی دھماکہ خیز باتیں

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) کاشانہ ویلفیئر کی سابقہ سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے کہا ہے کہ میرابطور سرکاری افسر یہ جرم ہے کہ میں نے یتیم اورنادار بچیوں کو جسمانی ہراسگی سے بچانے کیلئے ایک توانا آواز اٹھائی جو سسٹم کے خلاف تھی، پناہ دینے والے اداروں میں یتیم اور نادار بچیوں کا بے پناہ استحصال کیا جاتا ہے اور اس کیخلاف آواز اٹھانا میرا جرم ٹھہرا اور چارج شیٹ بن گیا۔

اپنے ویڈیو بیان میں افشاں لطیف نے کہا کہ میرا یہ جرم بھی ہے کہ میں نے مکروہ کاروبار کو روکنے کیلئے کاشانہ میں خصوصی بیڈ رو مزبنانے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔ہمارے نظام میں ایسے لوگوں کوسر آنکھوں پر بٹھایا جا تا ہے جو خودبھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں اور اپنے افسران کوبھی اسی بہتی گنگا میں نہلانے کا انتظام کراتے ہیں۔ افشاں لطیف نے کہا کہ مجھے کاشانہ جیسے معزز ادارے میں نگران لگانے والے شاید اس بات کا علم نہیں رکھتے تھے کہ افشاں لطیف نہ صرف اس بد بو دار نظام کی باغی ہے بلکہ ان بچیوں کی عزت و ناموس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ میرا مستقبل انہی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جوافسران کی خواہشات کی تکمیل کر رہے ہیں اور اس نظام کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ اس مضبوط مافیا کے خلاف آوازاٹھانے پر نوکری سے نکال دیا جائے گا مجھے اور میرے خاندان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن میرا ضمیر مطمئن ہے کیونکہ میں نے حقائق پر مبنی تمام معاملہ اعلیٰ عدلیہ، عوام او رمیڈیا کے سامنے رکھ دیا ہے، میں نے اس معاملے پر خاتون اول بشریٰ بی بی کوبھی خط ارسال کردیا ہے جو یقینی طو رپر اس سارے معاملے کو دیکھ رہی ہوں گی۔ میں سسٹم کے خلاف آواز اٹھانے پر ہر بڑی سے بڑی سزا بھگتنے کے لئے تیا رہوں اور میں اسے اپنے اعزاز سمجھتی ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…