جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

گڈز ٹرانسپورز کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل، سرکاری خزانے کو 21 کروڑ کا ٹیکہ، پبلک ٹرانسپورٹرز نے بھی حکومت کو الٹی میٹم دے دیا

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)سندھ میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے، حکومتی ہٹ دھرمی نے سرکاری خزانے کو 21 کروڑ کا دھچکا لگا دیا۔ اندرون ملک سامان کی ترسیل بند ہے جبکہ کراچی کی دونوں بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔ ہڑتال کے باعث مال بردار ٹرکوں کے اڈے پر گہرا سناٹا چھایا ہوا ہے،

آدم نہ آدم زاد کچھ نظر آتا ہے تو کنٹینر اور ٹرکوں کا انبار۔ 6 دن سے ملک بھر میں تیل کی ترسیل ہو سکی نہ سیمنٹ، کوئلے، کھاد اور غذائی اجناس کا سامان شہر سے باہر جاسکا اور آج بھی اس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ پورٹ پر کام بند ہونے سے کوئی برتھ بھی خالی نہیں، کھلے سمندر میں بھی 10 جہاز اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمدی اشیا لے جانے والے 4 جہاز برتھ نہ ملنے کے سبب خالی واپس جاچکے ہیں۔ ٹرانسپورٹ ہڑتال کے باعث 21 کروڑ روپے سے زائد کے برآمدی آرڈرز منسوخ ہونے کا خدشہ ہے۔ کینو، آلو، پیاز کے 1500 کے لگ بھگ کنٹینرز سندھ اور پنجاب کی سڑکوں پر کھڑے سڑنے لگے۔ سبزیاں اور پھل روس، سنگاپور، ہانگ کانگ، دبئی، بنگلادیش، قطر، کینیڈا، عمان اور دیگر ممالک بھیجے جارہے تھے۔ تاجروں نے ہڑتال کو برآمدات کے لیے خطرہ قرار دے دیا، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے ملک کی برآمدات بری طرح متاثر ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ہڑتال ختم نہ کرانے کی وجہ سے برآمد کنندگان، ٹرانسپورٹرز بلکہ سرکاری خزانے کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ہڑتال کے باعث ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے پی ایف وی اے کے برآمد کنندگان کی طرف سے کی جانے والی تمام کوششیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ کینو، آلو اور پیاز کے 1500 سے زائد کنٹینرز اب بھی پنجاب، سندھ کراچی بندرگاہ تک جاتے ہوئے راستے میں کھڑے ہیں اور ان کی مالیت 15 لاکھ امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ان میں موجود مال کے خراب ہونے کے خطرات لاحق ہیں لیکن ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے خاتمے اور ایکسپورٹس میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی کوششیں نہیں کی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…