اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

حامد کرزئی کی شہباز شریف اور نواز شریف سے خصوصی ملاقات، آرمی ایکٹ پر عمران خان نے صرف غلطیاں نہیں کی بلکہ کیا چیز شامل تھی؟ شہباز شریف خاموش نہ رہ سکے

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |
فوٹو:انٹرنیٹ

لندن(این این آئی) سابق وزیراعظم نواز شریف سے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ملاقات کی۔سابق افغان صدر نواز شریف کی عیادت کیلئے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پہنچے جہاں انہوں نے لیگی قائد سے ملاقات کی۔ نوازشریف کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ اپنے بھائی نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ میں نواز شریف کی عیادت کے لیے آیا تھا، انکی خیریت دریافت کی، نوازشریف کی صحت بہتر محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میرا دورہ پاکستان رہا یا نواز شریف کا دورہ افغانستان وہ بہت مہربان رہے۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ حامد کرزئی نوازشریف کی خیریت پوچھنے آئے تھے اور انہوں نے پاکستان کے عوام کے لیے خیرسگالی کا پیغام دیا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے افغانستان کے لیے اپنے جذبات کا اعادہ کیا، ہمیشہ کوشش رہنی چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان قریب تر ہوں۔آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ آرمی ایکٹ ترمیم سے متعلق بل کی حمایت کا فیصلہ پارٹی نے مشاورت سے کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تو اس وقت تو واویلا نہیں تھا، معاملہ عدالت میں آنے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ پارلیمنٹ توسیع کے معاملے پر قانون سازی کرے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں کہ مدت ملازمت میں توسیع دی گئی، ایسا نہیں ہوا کہ مشرف اور دیگر آمروں کی طرح جو خود کو ایکسٹینشن دیتے رہے، نوٹیفیکیشن سے متعلق عمران خان نے صرف غلطیاں نہیں کیں بلکہ بدنیتی بھی شامل تھی۔شہباز شریف نے کہا کہ اصل معاملہ پاکستان کے عوام کی غربت، بیروزگاری اور صحت کی فراہمی ہے، نوازشریف نے اپنے دور میں عوامی مسائل کے حل کے لیے تاریخی اقدامات کیے، نوازشریف نے چار سال میں بجلی کا بحران حل کرکے پاکستان کی لازوال خدمت کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ عوام کے مسائل کو سامنے رکھیں، کروڑوں لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں،

موجودہ حکومت نے قرضے لینے کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، 50 لاکھ گھر اور نوکریوں کی فراہمی کے وعدے کہاں گئے؟۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر 2019 سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مسلسل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔نواز شریف کی تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پلیٹیلیٹس غیر مستحکم، شریانیں جزوی بند اور فالج کا خطرہ ہے۔سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ ان کے کنسلٹنٹ ڈیوڈ لارنس نے تیار کی ہے جس کے مطابق نوازشریف کے پلیٹیلیٹس کا تعین نہیں ہورہا اور پلیٹیلیٹس کا تعین نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ زہرخورانی کا ٹیسٹ کرنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…