جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

قدرتی گیس  ایک صوبے کا نہیں پاکستان کے تمام عوام کا حق ہے ، وفاقی حکومت کا سندھ حکومت کو جواب‎

datetime 11  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی ہے کہ کسی ایک صوبے نہیں بلکہ پاکستان کے تمام عوام کا حق ہے کہ وہ قدرتی گیس استعمال کریں کیوں کہ وہی اس کے مالک ہیں۔وزیراعلی سندھ کی جانب سے کیے جانے والے دعوے کہ صوبے کو گیس کا حصہ نہیں دیا جارہا کے جواب میں وزارت توانائی (پیٹرولیم) ڈویژن نے اس بات پر زور دیا کہ پہلا حقِ استعمال (کسی ایک صوبے نہیں)

پاکستان کے شہریوں کا ہے کیوں کہ وسائل کے اصل مالکان شہری ہیں۔پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کے علاوہ گیس کا کوئی بھی استعمال آئین کی دفعہ 158 کے تحت وفاق اور صوبے کے درمیان خوش اسلوبی سے طے کیا جائے گا۔اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے بھی کہا تھا کہ حکومت تمام اشیا مثلا پیٹرول، بجلی، گیس اور گندم کے حوالے سے یکساں خریداری اور اجرا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔‎پیٹرولیم ڈویژن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کی جانب سے صوبے کو درپیش گیس کی ضرورت پورا کرنے کے مطالبے کو مسترد نہیں کیا گیا (تاہم) اس سے قبل اس طرح کی کوئی تجویز زیرغور نہیں آئی۔اس کے ساتھ ہی جواب میں دعوی بھی کیا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے 23 دسمبر کو ہوئے اجلاس میں معاون خصوصی برائے پیٹرولیم اور وزیراعلی سندھ نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کو قدرتی گیس کے زمرے میں لانے اور اس کے نتیجے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو اس کی قیمت مقرر کرنے کے اختیار پر اتفاق کیا تھا۔پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا تھا کہ موجودہ دور حکومت میں سندھ میں پیدا ہونے والی کوئی بھی گیس سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کو تفویض کی جاتی ہے اور معاون خصوصی کی آئین کی دفعہ 158 کی تشریح کا غلط مطلب لیا گیا۔جواب میں بتایا گیا کہ سندھ اس وقت تقریبا 2 ہزار 2 سو 43 ملین کیوبک فٹ روزانہ (ایم ایم سی ایف ڈی) گیس پیدا کررہا ہے جس میں سے 12 سے 13 سو ایم ایم سی ایف ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں دی جاتی ہے جبکہ 7 سو ایم ایم سی ایف ڈی براہ راست صوبے کے کھاد اور توانائی سیکٹر کو فراہم کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بلوچستان کو فراہم کی جانے والی گیس کے بعد باقی 4 سو سے 5 سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس سندھ کو دی جاتی ہے اور اگر آرٹیکل 158 کی اس تشریح کا اطلاق کیا جائے جو سندھ کرتا ہے تو صوبہ 2 سال میں گیس سے محروم ہو جائے گا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…