جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ریکارڈنگ اس لیے نہیں کرتے کیوں کہ ڈیل کی جاتی ہے، اسلام آباد ایئر پورٹ چار دن کا مہمان ہے، کبھی بھی گر جائے گا، چیف جسٹس کے انتہائی سخت ریمارکس

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ایئرپورٹس پر عدم سہولیات اور مسافر وں سے ناروا سلوک سے متعلق کیس کی سماعت،، چیف جسٹس کی ایڈیشنل ڈی جی سول ایوی ایشن تنویر اشرف کی سرزنش، عدالت نے ڈی جی سول ایوی ایشن کو تفصیلی رپورٹ دو ہفتے میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ایئرپورٹس پر عدم سہولیات اور مسافر وں سے ناروا سلوک کیس میں ایڈیشنل ڈی جی سول ایوی ایشن تنویر اشرف چیف جسٹس کے حکم پر عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو عدالتی حکم کا نہیں معلوم تو آپ کرکیا کررہے ہیں، صرف دفتر میں بیٹھ کر گدی گرم کررہے ہیں اور چپراسی کو بھیج دیتے ہیں، سپریم کورٹ نے فلائٹ میں تاخیر اور مسافروں کو معاوضے کی ادائیگی کی ایک سال کی رپورٹ طلب کرلی جبکہ ایئر پورٹس کی سیکیورٹی اور منٹیننس سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈنگ اس لیے نہیں کرتے کیوں کہ ڈیل کی جاتی ہے مسافروں کا کیا حال کردیتے ہیں پروازیں لیٹ ہوتی ہیں تو لوگ زمین پر چادر بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں، ایڈیشنل سینئر ڈائریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا اسلام آباد ایئر پورٹ بہت بڑا بن گیا ہے وہاں کافی سہولیات ہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا اسلام آباد ایئر پورٹ چار دن کا مہمان ہے، کبھی بھی گر جائے گا، سرکار اس ایئر پورٹ کو بنانے میں دس دفعہ قیمت ادا کرچکی ہے عدالت نے مختلف حادثات اور قانونی کارروائی ایئر پورٹ آپریشن سے متعلق ڈی جی سول ایوی ایشن اتھاڑتی کو دو ہفتے میں رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…