پاکستانی معیشت کس حالت میں ہے؟ سٹیٹ بینک نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر پہلی سہ ماہی رپورٹ جاری کر دی

  پیر‬‮ 6 جنوری‬‮ 2020  |  23:29

کراچی (این این آئی)بینک دولت پاکستان نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر پہلی سہ ماہی رپورٹ مالی سال 20 جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی معیشت بتدریج مطابقت کی راہ پر گامزن رہی۔ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی شروعات سے کلی معاشی استحکام کی رفتار بڑھ گئی۔ اسٹیٹ بینک نے مسلسل زری پالیسی کو مہنگائی کے وسط مدتی ہدف سے ہم آہنگ رکھا جبکہ مالیاتی محاذ پر یکجائی کی کوششیں نمایاں رہیں۔ مزید برآں، مارکیٹ پر مبنی شرح مبادلہ کا ایک نظام نافذ کیا گیا اور انٹربینک فارن


ایکس چینج مارکیٹ نے خود کو اس نظام سے خاصا ہم آہنگ کر لیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک کے قرضے کے رول اوور سمیت خسارے کی مونیٹائزیشن سے گریز کیا اور دستاویزیت کی کوششوں کو فعال انداز میں آگے بڑھایا۔رپورٹ کے مطابق جڑواں خساروں میں کمی کی شکل میں معاشی استحکام کی جاری کوششوں کے ثمرات نمایاں ہو چکے ہیں۔ مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتے کا خسارہ بنیادی طور پر درآمدات میں خاصی کمی کی بدولت گر کر گذشتہ برس کی نصف سطح سے بھی کم رہ گیا۔ کم اکائی قیمتوں کی وجہ سے برآمدات کی نمو پست رہی۔ تاہم، حجم کے لحاظ سے برآمدات میں قابل ذکر نمو دیکھی گئی۔ مالیاتی محاذ پر مجموعی خسارہ گذشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں کم رہا اور بنیادی توازن میں پچھلی 7 سہ ماہیوں میں پہلی مرتبہ فاضل درج کیا گیا۔ اس بہتری میں محصولات میں اضافے اور اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات دونوں نے کردار ادا کیا۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سہ ماہی کے دوران ترقیاتی اخراجات میں 30.5 فیصد کی بلند نمو ہوئی۔جی ڈی پی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ خریف کے موسم کے نظرِ ثانی شدہ تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم فصلوں کی پیداوار مالی سال 20 کے ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی (LSM) کے شعبے میں 5.9 فیصد کی سال بسال کمی دیکھی گئی۔ یہ تخفیف وسیع البنیاد تھی کیونکہ تعمیرات سے منسلک صنعتوں، پیٹرولیم اور گاڑیوں کی صنعتوں کی نمو میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ اس کے مقابلے میں شرح مبادلہ میں پہلے کی گئی اصلاحات سے برآمدی صنعتوں کو مدد ملی، جس کی عکاسی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی نسبتا بہتر کارکردگی سے ہوتی ہے۔ تاہم بحیثیت مجموعی حقیقی جی ڈی پی کی 4 فیصد نمو کا ہدف حاصل ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی میں عمومی صارف اشاریہ قیمت(CPI) مہنگائی 11.5 فیصد ہوگئی، جو مالی سال 19 کے آغاز سے شروع ہونے والے اضافے کے رجحان کا تسلسل ہے۔ مہنگائی کی یہ سطح نہ صرف گذشتہ برس کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں دگنی تھی بلکہ یہ مالی سال 12 کی چوتھی سہ ماہی سے لے کر اب تک سہ ماہی مہنگائی کی بلند ترین سطح بھی تھی۔ اس صورت حال کو مالی سال 19 کے اختتام پر شرح مبادلہ کی قدر میں کمی کے تاخیری اثرات، توانائی کے نرخوں کی اصلاح اور 2019-20 کے بجٹ میں محاصل بڑھانے کے مالیاتی اقدامات، جن میں متعدد صارفی اشیا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا نفاذ، برآمدی شعبوں پر زیرو ریٹنگ کے نظام کا خاتمہ نیز شکر پر جی ایس ٹی میں کمی شامل ہیں، سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔بیرونی محاذ پر مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی میں ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا عمل جاری رہا۔ تجارتی خسارے میں خاصی بہتری اور آئی ایم ایف سے ای ایف ایف کی پہلی قسط کی وصولی اور بیرونی پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ جاری کھاتے کے فرق کو دستیاب رقوم سے پورا کیا گیا۔ ان رقوم کی آمد کے باعث سہ ماہی کے دوران اسٹیٹ بینک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں 656.2 ملین ڈالر کا اضافہ کرنے اور اپنے خالص فارورڈ واجبات 1.3 ارب ڈالر کم کرنے میں مدد ملی۔رپورٹ میں اس بات زور دیا گیا ہے کہ آگے چل کر ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تسلسل کے ساتھ مضمر ساختی مسائل کا تدارک کرتے ہوئے معیشت کو متوازن اور پائیدار معاشی نمو کی راہ پر گامزن رکھے۔ مزید برآں، کاروبار کرنے میں آسانی کے فوائد بھی بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرموں کے لیے بھی یہ بات اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ ایسی معاون پالیسیوں، بالخصوص برآمدات کے فروغ کی رعایات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی قدری زنجیروں (جی وی سیز) میں قدم جمانے کے فوائد سے استفادہ کریں۔ جیساکہ رپورٹ میں ا یک علیحدہ خصوصی سیکشن میں بتایا گیا ہے، عالمی قدری زنجیروں میں شراکت بڑھانے سے نہ صرف ملکی مصنوعات کے آمیزے کو عالمی طلب کے رجحانات سے ہم آہنگ بلکہ برآمدات کو پائیدار نمو کی راہ پر گامزن کرنا بھی ممکن ہو سکے گا۔


موضوعات: