جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

2019حکومت کیلئے جھوٹ پلس کا سال تھا،2020ء کا آغاز کون سے پلس سے کیا؟ سراج الحق نے دھماکہ خیز بات کر دی

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 2019حکومت کے لیے جھوٹ پلس کا سال تھا اور 2020کا آغاز صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کرپشن پلس سے کیا گیا، گزشتہ سال حکومت نے عوامی مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور نئے سال کے پہلے دن ہی تیل بجلی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ کرکے عوام کو مہنگائی کا تحفہ دیاہے، حکومت نے اپنی طرف سے پیغام دیا ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی میں مہنگائی کے چھکے چوکے لگیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس سے خطاب اور پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایک سا ل کی کارکردگی بتائے کہ 365 دنوں میں غربت ختم کرنے اور غریب کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے کیا قانون سازی کی ہے۔حکومت عوام دشمن پالیسیاں آئی ایم ایف کے کہنے پر بنا رہی ہے۔ عام آدمی کی زندگی مشکل ہو گئی ہے۔ بجلی، گیس کے بل ادا کرنا عوام کے لیے ناممکن ہوگیاہے۔ اس وقت ملک میں اداروں کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ پرویز مشرف کا کیس اداروں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔کوالالمپور سمٹ کا ایجنڈا وزیراعظم پاکستان سے مشاورت کے بعد طے ہواتھا مگر جب یہ سربراہی کانفرنس شروع ہوئی، پاکستان کی کرسی خالی تھی۔ جن لوگوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر ہمارا ساتھ دیا تھا، ہماری حکومت نے ان کو ناراض کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ 2019میں حکمرانوں نے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب عوام ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم باربا ر کہتے رہے ہیں کہ2020میں عوام کو ریلیف دیں گے مگرنئے سال کے پہلے دن ہی مہنگائی کے سونامی نے عام آدمی کے اوسان خطا کردیئے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نیب کے حوالے سے آرڈیننس سے کرپٹ ٹولے اور کرپشن کو تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلین ٹری اور بی آر ٹی منصوبے میں سینکڑوں ارب روپے کی کرپشن چھپ نہیں سکے گی۔ حکومت اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں دے رہی ہے کہ اس بارے میں مقدمات کو نہ سناجائے، اس سے ثابت ہوتاہے کہ حکومت اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے کشمیر کا مسئلہ پس پشت ڈال دیاہے۔ آج 150 دن گزر گئے مگر ہماری حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے جس طرح آسام اور بہار میں مسلمانوں کے کیمپ بنائے ہیں اور انہیں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کردیا ہے، اسی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں بنا رہی ہے جو لوگ ان کیمپوں میں ہوں گے وہ بھارت کے شہری ہوں گے نہ پاکستان کے۔ بھارت کشمیر میں مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کر رہاہے۔ آج ہر پاکستانی ملک کے بارے میں فکر مند ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے ایک آرڈی نینس کے ذریعے پچاس کروڑ تک کی کرپشن کو حلال قرار دیدیا۔ حکومت کو یہ اختیار کس نے دیا ہے۔ آئین و قانون اور شریعت تو اس کی اجازت نہیں دیتی۔ کرپشن ایک روپے کی ہو یا ایک ارب روپے کی وہ کرپشن ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…