پاکستان ریلوے کا 4 نئی شٹل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ، یہ ٹرینیں کون کون سے اسٹیشن سے چلائی جائیں گی؟ اعلان کر دیا گیا

  ہفتہ‬‮ 21 دسمبر‬‮ 2019  |  20:11

لاہور (آن لائن) پاکستان ریلوے اس سال 4 نئی شٹل ٹرینیں چلانے جارہا ہے۔ لاہور۔ رائیونڈ،لاہور۔گوجرانوالہ اور حیدرآباد۔کراچی کے درمیان یہ ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ لاہور سے گوجرانوالہ کے درمیان چلائی جانے والی شٹل ٹرین کا کرایہ 100 روپے ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ریلوے ہیڈکوارٹرز آفس لاہور میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چار پسنجر اور تین فریٹ ٹرینیں پرائیویٹ سیکٹرکو آفر کرنے جارہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹرکو دی جانے والی پسنجر ٹرینوں میں سرسید ایکسپریس،جناح ایکسپریس، رحمان بابا ایکسپریس اور تیزگام ایکسپریس کے نام شامل ہیں۔ بعدازاں وفاقی وزیر


ریلوے شیخ رشید احمد نے پاکستان ریلوے سپورٹس بورڈ کی جانب سے نیشنل گیمز میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر ریلوے سٹیڈیم گڑھی شاہو میں منعقد تقریب میں شرکت کی اور پاکستان ریلوے کی طرف سے گولڈ، سلوراور براؤنز میڈل جیتنے والوں میں نقد انعام تقسیم کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے نے اس سال سپورٹس بورڈ کے فنڈ کو ساڑھے تین کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے اور اگلے مالی سال کے لیے 10 کروڑ کرنے کا اعلان کیاہے۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹوآفیسر ریلویز اعجاز احمد بریرو اور جنرل منیجر ڈبلیو اینڈایس آئی شاہد عزیز کو موقع پر ہدایات جاری کیں کہ نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو پاکستان ریلوے میں فوری طورپر ملازمت دی جائے۔ نیشنل گیمز میں کامیابی پر وفاقی وزیر یلوے شیخ رشید احمد نے سپورٹس بورڈ کی انتظامیہ اور تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دی۔ 2020ریلوے کا سال ہے ایم ایل ون کا اس شان سے افتتاح کریں گے کہ دنیا میرے مرنے کے بعد بھی یاد رکھے گی۔ ایم ایل ون ملکی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مشرف کے دور میں سی پیک صرف ٹریڈ کے لیے شروع ہوا تھا۔ ایم ایل ون کا افتتاح چین کی بہت بڑی شخصیت کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔ ایم ایل ون کا بنیادی مقصد ریلوے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا 14 سال پہلے میں نے اس کی بنیاد رکھی تھی اور اب بھی میں اللہ سے دُعا گو ہوں کہ اس کی شروعات بھی مجھ سے ہی کروائے اور ہم سُرخرہوجائیں گے کہ ریلوے کو نئی زندگی اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں سے دی ہے۔ آرمی کے بعد ریلوے پاکستان کا دوسرا بڑا ادارہ ہے70.3 فیصد ٹریک آبادی کے اندر سے گزرتا ہے اگر ہم تھوڑا سابھی منظم ہوجائیں تو سائن بورڈوں سے ہماری اتنی آمدن ہوسکتی ہے کہ اس سے ریلوے کا خسارہ ختم ہوسکتا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ نئے سال میں بغیر ٹکٹ مافیا کے خلاف میں خود مین لائنوں اور برانچ لائنوں پر ریڈ کروں گا او ر کسی بغیر ٹکٹ مسافر کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری پوری کوشش ہے کہ ہمیں افغان ٹرانزٹ کا کام مل جائے اس سے ہماری تین سے چار فریٹ ٹرینوں کا اضافہ ہوجائیگا۔ ہم نے فریٹ میں فری ٹریک پالیسی متعارف کروائی ہے کہ پرائیویٹ لوگ اپنی فریٹ ویگنز اور انجن لائیں اور پالیسی کے مطابق ٹریک کا کرایہ دے کر چلائیں۔ ٹرینیں پرائیویٹ سیکٹر کو دینے سے ریلوے کا بوجھ کم ہوگا۔ اس لیے ہم پرائیویٹ سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم لیگج وین کی تعداد کو 43 سے بڑھا کر 100 تک لے جائیں گے اور لیگج وین کے ساتھ ایک ایک پسنجر کوچ بھی لگائیں گے کیونکہ میرے پہلے دور میں لیگج وین 3 کروڑ روپے کی تھی اور آج لیگج وین کا ٹینڈر 10کروڑ روپے میں ہوا ہے۔ اگر ہم پچاس لیگج وین کا اضافہ کریں تو اس سے ہم ایک ارب روپے کماسکتے ہیں اور پچاس پسنجر کوچز کو لیگج وین میں تبدیل کیا جائے تو اس سے بھی بہت زیادہ آمدن ہوگی۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ 2020 میں ریلوے کو ایک نیا نام اور نئی زندگی دی جائے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر طرح کے حادثات سے محفوظ رکھے۔ہمارے پاس 1961کا پرانا ڈھانچہ ہے۔ ریلوے کا خسارہ 33 ارب کا ہے ہماری کوشش ہے کہ ہم اس کو پانچ سا ل کی بجائے تین سال میں ختم کردیں گے۔ پچھلے سال ہم نے 10 ارب روپے زیادہ کمائے ہیں اس دفعہ ہمارا ٹارگٹ لینڈ، سکریپ اور فریٹ ٹرین ہے۔


موضوعات: