جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

وقت آگیا ہے کہ وکلاء فوری طورپر اپنا محاسبہ کریں،سپریم کورٹ کے 54سینئر وکلاءنے پاکستان بار کونسل کو خط لکھ دیا،بڑے مطالبات سامنے رکھ دئیے

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )سپریم کورٹ کے 54سینئر وکلاء کا پاکستان بار کونسل کو خط، پی آئی سی حملے کے واقعے نے وکالت کے شعبے کا بدنام کیا، بار کونسلز اور ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی کال افسوس ناک ہے ،وقت آگیا ہے کہ وکلاء فوری پر اپنا محاسبہ کریں۔

واقعے میں ملوث وکلاء کے خلاف فوری تادیبی کاروائی کی جائے۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق سپریم کورٹ کے 54سینئروکلاء نے پاکستان بار کونسل کے نام مشترکہ خط میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر وکلاء کی جانب سے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پبلک پراپرٹی او رہسپتال پر حملے کو کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء عابد حسن منٹو ، رضا کاظم ، مخدوم علی خان ، بابر ستار اور سلمان اکرم راجہ سمیت 54وکلاء نے پاکستان بار کونسل کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ یہ بات ناقابل فہم اور باعث اذیت ہے کہ جنہیں قانون کی پریکٹس کا لائسنس دیا گیا ہو وہ ہسپتال پر حملہ کردیں خواہ اس حملے کی اشتعال انگیزی سمیت کوئی بھی وجہ ہو۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ بد قسمتی سے واقعے نے وکالت کے پیشے کو بدنام کیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بطور قانون دان ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ واقعہ کے بعد بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی ہڑتال کی کال افسوس ناک ہے۔ احتجاج کے حق کا مطلب عدالتی امور کا بائیکاٹ ہر گز نہیں ہے افسوس یہ ہے کہ پاکستان بار کونسل اور دیگر ایسوسی ایشنز نے حملے کی مذمت نہیں کی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معذرت خواہانہ رویے کی بجائے سخت ایکشن لیا جائے اور حملے میں ملوث وکلاء کے خلاف فوری تادیبی کاروائی کی جائے۔ وکالت کی ساکھ اور عظمت کی بحالی کیلئے پاکستان بار کونسل اور دیگر کونسلز اقدامات کریں ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا فوری محاسبہ کریں ۔ واقعے میں ملوث افراد کا احتساب اشتعال انگیزی سے بچنے کے اصولوں کا تعین کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…