جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

کالا دھن ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کے بینک اکاونٹ میں رکھنے کا انکشاف کریک ڈائون شروع ، ملوث عناصر کیساتھ کیا کیا جائےگا ؟

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو سروس کراچی نے ٹیکس چوری کی رقم اور کالے دھن کو چھپانے کے لیے ایک نئے طریقہ کار کا سراغ لگا لیا۔ڈائریکٹوریٹ کو مختلف ذرائع سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ غیرقانونی اور ٹیکس چوری کی رقم ان دور دراز علاقوں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائی جارہی ہے جہاں ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے۔.

اس سرگرمی کامقصد آمدن کے اصل ذرائع اور سرمائے کی ملکیت کو خفیہ رکھنا ہے۔ڈائریکٹوریٹ انٹلیجنس آئی آرکی جانب سے ان اطلاعات کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں توانکشاف ہوا کہ اس طرز کے اکاؤنٹس میں بھاری رقوم جمع کرائی گئیں اور یہ اکاؤنٹ بھاری مالیت کے لین دین کے لیے بھی استعمال کیے گئے۔ ان اکاؤنٹس میں جمع کرائے جانے والی رقوم کے ذرائع آمدن کی تصدیق بھی نہیں ہوئی اور زیادہ تر اکاؤنٹس میں رقوم نقد شکل میں جمع کی اور نکلوالی گئیں۔دور دراز علاقوں کے بینک اکاؤنٹس میں سرمایہ چھپانے والے عناصر نے متعلقہ تفتیشی اداروں کی انکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اسے کاروبار سے حاصل ہونے و الی آمدن قرار دیا۔درحقیقت یہ عناصر اسمگلنگ، انڈر انوائسنگ، منشیات کی تجارت، حوالہ ہنڈی ، اغوا برائے تاوان اور ٹیکس چوری میں ملوث پائے گئے۔ یہ عناصر اپنی رقوم کو قانون کی آنکھوں سے اوجھل رکھنے کے لیے متخلف مقامات پر منتقل کرتے رہے اور ٹیکس چوری سمیت منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ کی فراہمی کے لیے اس سرمائے کو استعمال کیا جاتا رہا۔ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر بشیرخان مروت نے وزیر اعظم پاکستان اور ان کی حکومت کے وڑن کے مطابق ملک بھر میں اپنے ماتحت تمام ڈائریکٹوریٹس کواس طرز کی سرگرمیوں میں ملوث مذموم عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت کی ہے جو نہ صرف منی لانڈرنگ جیسی سنگین غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں بلکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ملک کی ساکھ کو بھی بین الاقوامی سطح پر خراب کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…