جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

کالا دھن ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں کے بینک اکاونٹ میں رکھنے کا انکشاف کریک ڈائون شروع ، ملوث عناصر کیساتھ کیا کیا جائےگا ؟

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)ڈائریکٹوریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو سروس کراچی نے ٹیکس چوری کی رقم اور کالے دھن کو چھپانے کے لیے ایک نئے طریقہ کار کا سراغ لگا لیا۔ڈائریکٹوریٹ کو مختلف ذرائع سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ غیرقانونی اور ٹیکس چوری کی رقم ان دور دراز علاقوں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کرائی جارہی ہے جہاں ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہے۔.

اس سرگرمی کامقصد آمدن کے اصل ذرائع اور سرمائے کی ملکیت کو خفیہ رکھنا ہے۔ڈائریکٹوریٹ انٹلیجنس آئی آرکی جانب سے ان اطلاعات کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں توانکشاف ہوا کہ اس طرز کے اکاؤنٹس میں بھاری رقوم جمع کرائی گئیں اور یہ اکاؤنٹ بھاری مالیت کے لین دین کے لیے بھی استعمال کیے گئے۔ ان اکاؤنٹس میں جمع کرائے جانے والی رقوم کے ذرائع آمدن کی تصدیق بھی نہیں ہوئی اور زیادہ تر اکاؤنٹس میں رقوم نقد شکل میں جمع کی اور نکلوالی گئیں۔دور دراز علاقوں کے بینک اکاؤنٹس میں سرمایہ چھپانے والے عناصر نے متعلقہ تفتیشی اداروں کی انکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اسے کاروبار سے حاصل ہونے و الی آمدن قرار دیا۔درحقیقت یہ عناصر اسمگلنگ، انڈر انوائسنگ، منشیات کی تجارت، حوالہ ہنڈی ، اغوا برائے تاوان اور ٹیکس چوری میں ملوث پائے گئے۔ یہ عناصر اپنی رقوم کو قانون کی آنکھوں سے اوجھل رکھنے کے لیے متخلف مقامات پر منتقل کرتے رہے اور ٹیکس چوری سمیت منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمایہ کی فراہمی کے لیے اس سرمائے کو استعمال کیا جاتا رہا۔ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو ڈاکٹر بشیرخان مروت نے وزیر اعظم پاکستان اور ان کی حکومت کے وڑن کے مطابق ملک بھر میں اپنے ماتحت تمام ڈائریکٹوریٹس کواس طرز کی سرگرمیوں میں ملوث مذموم عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی ہدایت کی ہے جو نہ صرف منی لانڈرنگ جیسی سنگین غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں بلکہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ملک کی ساکھ کو بھی بین الاقوامی سطح پر خراب کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…