ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

2019 کے دوارن دنیا بھر میں کم از کم کتنے صحافیوں کو حراست میں لیاگیا؟کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کی رپورٹ میں اہم انکشافات

datetime 12  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )2019 میں دنیا بھر میں کم از کم 250 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے سالانہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ کم از کم 250 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے باعث جیل میں ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 255 تھی۔

سی پی جے نے جب سے صحافیوں کی حراست کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے اس وقت سے سب سے زیادہ صحافیوں کو سال 2016 میں حراست میں لیا گیا تھا جن کی تعداد 273 تھی، جس میں چین، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے بعد سب سے برے جیلر ایریٹیریا، ویت نام اور ایران ہیں۔سروے رپورٹ کے مطابق چین نے پریس پر سختیوں میں اضافہ جبکہ ترکی نے آزادانہ رپورٹنگ کو ختم کردیا ہے لہٰذاپنے فرائض انجام دینے کی وجہ سے دنیا بھر میں صحافیوں کو حراست میں لینے کی تعداد ریکارڈ کے قریب قریب ہے جبکہ رہا کیے جانے والے صحافی مقدمے یا اپیل کے منتظر ہیں۔مشرق وسطی میں آمریت، عدم استحکام اور احتجاج کی وجہ سے زیادہ تر صحافی گرفتار ہوئے بالخصوص سعودی عرب میں جو دنیا کے تیسرے بدترین جیلر مصر کے برابر آگیا ہے۔سی پی جے کے مطابق ویت نام اب بھی چین کے بعد ایشیا ء کا دوسرا بدترین جیلر ہے جہاں 12 صحافی زیر حراست ہیں جبکہ پورے امریکہ میں صرف 3 صحافیوں کو جیل بھیجا گیا تھا۔دنیا بھر میں قید صحافیوں کی اکثریت کو ریاست مخالف الزامات کا سامنا ہے جبکہ جھوٹی خبر کے الزام میں قید صحافیوں کی تعداد 30 ہے جو گزشتہ برس 28 تھی۔صحافیوں کے خلاف الزامات کے استعمال میں سال 2012 کے بعد سے تیزی آئی۔

جب سی پی جے کے مطابق پوری دنیا میں صرف ایک صحافی کو الزام کا سامنا تھا اس میں بھی مصری صدر عبدالفتح سیسی سب سے زیادہ اس کا استعمال کرتی ہے۔گزشتہ برس روس اور سنگاپور سمیت جابرانہ ممالک میں جعلی خبروں کو جرم بنانے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔رواں برس کے ا عداد و شمار کے مطابق 4 سالوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ترکی دنیا کا بدترین جیلر نہیں بنا تاہم قیدیوں میں تعداد میں کمی ترک میڈیا کے لیے صورتحال بہتر ہونے کی نشاندہی نہیں۔

سی جے پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جیلوں میں موجود 98 فیصد صحافی مقامی ہیں جو اپنے ملک کی صورتحال پر رپورٹنگ کررہے تھے4 میں 3 صحافی غیر ملکی ہیں جو سعودی عرب میں قید ہیں جبکہ ایک چین میں زیر حراست ہے۔رپورٹ کے مطابق جیل میں موجود صحافیوں کی تعداد کا 8 فیصد یا 20 صحافی خواتین ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 13 فیصد تھی۔سیاست صحافیوں کو جیل میں پہنچانے کی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے بعد انسانی حقوق اور بدعنوانی کے الزامات ہیں زیر حراست صحافیوں کی نصف سے زائد تعداد آن لائن اشاعت کے لیے رپورٹنگ کررہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…