(ن)لیگ اور پی پی پی ارکان کاقومی اسمبلی میں شدید احتجاج، حکمران اتحاد میں بھی پھوٹ پڑ گئی،اہم حکومتی اتحادی اپوزیشن سے جاملے

  جمعہ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2019  |  21:04

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی ارکان نے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کرنے اور رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیرصدارت ہوادور ان اجلاس مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی ارکان نے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کرنے اور رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا،حکومتی اتحادی اختر مینگل سمیت اپوزیشن کے تمام اراکین بھی ایوان سے نکل گئے۔ ا س


موقع پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیر مملکت علی محمد خان کو اپوزیشن کو منانے کا ٹاسک دیاجس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے ڈپٹی سپیکر کی ہدایت پر وفاقی وزراء مراد سعید اور عمر ایوب سے کہا کہ وہ اپوزیشن کو منانے کے لئے ان کے ساتھ چلیں تو دونوں وفاقی وزراء نے علی محمد خان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد علی محمد خان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کو ساتھ لے کر اپوزیشن کے پاس گئے۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے چوہدری حامد حمید نے کورم کی نشاندہی کردی،ارکان کی گنتی کے بعد کورم ٹوٹ گیا اور کورم پورا ہونے تک ایوان کی کارروائی معطل کر دی گئی بعد ازاں ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیا جمعہ کو قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیرصدارت ہوا دور ان اجلاس مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی ارکان نے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کرنے اور رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا،حکومتی اتحادی اختر مینگل سمیت اپوزیشن کے تمام اراکین بھی ایوان سے نکل گئے۔


موضوعات: