پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

(ن)لیگ اور پی پی پی ارکان کاقومی اسمبلی میں شدید احتجاج، حکمران اتحاد میں بھی پھوٹ پڑ گئی،اہم حکومتی اتحادی اپوزیشن سے جاملے

datetime 6  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی ارکان نے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کرنے اور رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیرصدارت ہوا

دور ان اجلاس مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی ارکان نے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کرنے اور رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا،حکومتی اتحادی اختر مینگل سمیت اپوزیشن کے تمام اراکین بھی ایوان سے نکل گئے۔ ا س موقع پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیر مملکت علی محمد خان کو اپوزیشن کو منانے کا ٹاسک دیاجس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے ڈپٹی سپیکر کی ہدایت پر وفاقی وزراء مراد سعید اور عمر ایوب سے کہا کہ وہ اپوزیشن کو منانے کے لئے ان کے ساتھ چلیں تو دونوں وفاقی وزراء نے علی محمد خان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد علی محمد خان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کو ساتھ لے کر اپوزیشن کے پاس گئے۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے چوہدری حامد حمید نے کورم کی نشاندہی کردی،ارکان کی گنتی کے بعد کورم ٹوٹ گیا اور کورم پورا ہونے تک ایوان کی کارروائی معطل کر دی گئی بعد ازاں ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیا جمعہ کو قومی اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیرصدارت ہوا دور ان اجلاس مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی ارکان نے پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد نہ کرنے اور رانا ثنا اللہ کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا،حکومتی اتحادی اختر مینگل سمیت اپوزیشن کے تمام اراکین بھی ایوان سے نکل گئے۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…