جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

شہباز گاڈ فادر، سلمان شہباز نے بہت سے کردار انڈر گراؤنڈ کئے، وزیراعظم نے شہزاد اکبر کوانتہائی اہم ٹاسک سونپ دیا

datetime 6  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ سلمان شہباز کی پکڑائی نقل میں ناکامی کی وجہ سے ہوئی، وہ سمجھتے تھے اسحاق ڈار کی نقل کرکے کامیاب ہوں گے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ گاڈ فادر شہباز شریف اور دوسرا کردار سلمان شہباز مفرور ہیں، سلمان شہباز خود مفرور ہیں اور بہت سے کرداروں کو انڈر گراؤنڈ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سارے کاروبار کو سلمان شہباز دیکھ رہے تھے، گزشتہ 10 سال میں سلمان شہباز کے اثاثوں میں اضافہ ہوا، کرپشن نہیں کی تو بیرون ملک کیوں چھپے بیٹھے ہیں، ایک کمپنی کی ٹرانزیکشنز دیکھ کر ہوش اڑ گئے جس کی تحقیقات جاری ہیں، ہنڈی حوالہ کے ذریعے پیسوں کا لین دین کیا جاتا تھا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ ایسا کون سا کاروبار ہے جس میں بوریوں میں رقم لے جاتے ہیں، تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور انکشافات ہورہے ہیں، پاناما میں ظاہر اثاثے ملک سے باہر ہیں، کاروبار پاکستان میں کیا جارہا تھا، باریاں لے کر ایک دوسرے کو نہ چھیڑنے کی روایت تھی، شہباز شریف کے گزشتہ 2 ادوار میں جائیدادیں بنائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انسداد منی لانڈرنگ کے ادارے کو انہوں نے غیرفعال کیا ہوا تھا، عدالتی حکم پر ادارے فعال ہوئے تو انکشافات شروع ہوئے، کوئی این آر او نہیں ملا اس وجہ سے سب کچھ سامنے آرہا ہے، اومنی گروپ کو نہ چھیڑو، ٹی ٹیز کو نہیں چھیڑنا کی پالیسیاں تھیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ انشا اللہ ریکوری کی جائیگی، مختلف کیسز پر کام ہورہا ہے ابھی بہت انکشافات ہوں گے، اب وہ دور نہیں کہ آگ لگ جائے اور ریکارڈ جل جائے۔انہوں نے کہا کہ بارہا کہہ رہا ہوں لندن میں شہباز شریف کب کیس کریں گے، الزامات ہی نہیں باقاعدہ ثبوت پیش کررہے ہیں، شہباز شریف چھ ماہ سے دھمکیاں دے رہے تھے کیس نہیں کیا، ان کے کیس دائر کرنے کا انتظار کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گورکھ دھندے میں سب سے اہم کردار کیش بوائز کا ہے، ایک ایک کیش بوائے نے 40 سے 50 ارب کا لین دین کیا، اب تک 3 کیش بوائے گرفتار اور 3 مفرور ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے خصوصی ٹاسک دیا ہے، ایف آئی اے کو عالمی سطح کی ایجنسی بنانا میرا ٹاسک ہے، ایف آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ ٹاسک میں شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…