جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فتنوں کے خاتمے کے لیے علماء کے درمیان رابطے وقت کی ضرورت ہے، سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز کی حافظ طاہر محمود اشرفی سے ملاقات میں گفتگو

datetime 5  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(پ ر) امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد سے تمام مسائل کا حل نکلے گا۔ اسلام کے نام پر دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے والوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ مملکت سعودی عرب مسلمانوں کی وحدت اور اتحاد کا مرکز ہے۔ پاکستان کے علماء و مشائخ، فوج او ر عوام نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔ فتنوں کے خاتمے کے لیے علماء کے درمیان رابطے وقت کی ضرورت ہے۔

یہ بات مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدروفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سے دارالافتاء سعودی عر ب میں ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، دنیا کو اسلام اور مسلمانوں سے،خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ وحشت اور دہشت پھیلانے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مملکت سعودی عرب کی قیادت، علماء اور عوام مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات لازوال ہیں۔ مملکت سعودی عرب پاکستان کے علماء ومشائخ کوبہت احترام سے دیکھتی ہے۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مفتی اعظم سعودی عرب کو کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں تین ماہ سے کرفیو ہے کشمیری کس حال میں ہیں کسی کو خبر نہیں ہے۔ کشمیر او رفلسطین امت مسلمہ کے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے ہر سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت سعودی عرب امت مسلمہ کا مرکز ہے مرکز کے بغیر امت کی وحدت ممکن نہیں ہے،پاکستان کسی سیاسی و عسکری قیادت اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کسی ایسے اتحاد میں شامل نہیں ہوسکتا جس کا مقصد اسلامی اور عرب ممالک کو کمزور کرنا ہوگا۔ پوری دنیا پر واضح ہے کہ مملکت سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اختلافات پیدا نہیں کئے جاسکتے۔

انہوں نے مفتی اعظم سعودی عرب کو بتایا کہ پاکستان علماء کونسل لاہور میں دارالافتاء پاکستان قائم کر چکی ہے جس کی توسیع پر کام ہورہا ہے۔ انہوں نے مملکت سعودی عرب کا مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔ پاکستان جنگ کاحامی نہیں ہے لیکن اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہیاور پاکستان کی فوج جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مفتی اعظم سعودی عرب نے پاکستان اور عالم اسلام کے لیے خصوصی طور پر دعا کروائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…