منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

اتناظلم یزید اور ابرہہ نےنہیں کیا، نقیب اللہ محسود کے والد محمدخان کے آخری الفاظ نقیب اللہ محسود کے والد آخری دن تک کیسے اپنے بیٹے کے انصاف کیلئے بیماری کے باوجود وہیل چیئر پر دھکے کھاتے رہے اور موت سے پہلے کیا کہا؟ جانئے

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اتناظلم یزید اور ابرہہ نےنہیں کیا۔ تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کےوالد بیٹے کیلئے انصاف مانگتے مانگتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ محمد خان محسود کافی عرصے سے کینسر کی بیماری میں مبتلا تھے ۔ گزشتہ 7ماہ سے ان کا پنڈی کے ہسپتال میں علاج ہو رہا تھا ۔

دوران علاج ہی وہ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ جعلی مقابلے میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے والد انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتے‎کھٹکھٹاتے‎دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ ان کا ایک ویڈیو بیان سوشل میڈیا جس میں انہوں بتایا کہ وہ خود نقیب اللہ محسود کیس کے مدعی تھے اور دو ہفتے قبل آخری مرتبہ وہیل چیئر پر وہ اسلام آباد ہائی کورٹ پیش ہوئے جہاں سے وہ ہسپتال چلے گئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنا ظلم ابرہہ نے نہیں کیا تھا جتنا راؤ انوار نے کیا ہے۔مجھے ڈاکٹروں نے زیادہ بات کرنے سے منع کیا ہے اور دور تک کا سفر نہیں کر سکتا ۔ چھ ماہ سے بیماری کی حالت میں ہوں اور صحت میں بہتری نہیں آ رہی ۔ اپنی وہیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں صرف اس تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہوں ۔ محمد خان محسود نے ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ میں عدالت کے چکر لگاتا رہا اور مجھے یہی بتایا جاتا رہا کہ وہ گرفتار ہو بھی گئے تو ان کی ضمانت ہو جائے گی ۔ اپنے آخری بیان میں انہوں نے رائو انوار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ میرے گواہ اس سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ سب کو جانتا ہے اور انہیں دھمکیاں دیتا ہے ۔ میرے دو گواہوں گرفتار جبکہ باقی محصور ہو کر رہ گئے ہیں وہ نماز اور جنازے کیلئے نہیں جا سکتے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…