جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

دسمبر عمران خان پر بھاری، حکومت کی الٹی گنتی شروع،کچھ ہی دنوں میں کیا ہونیوالا ہے؟ مولانافضل الرحمان نے بڑی پیش گوئی کردی

datetime 3  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی،کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، پارلیمنٹ میں کسی بھی ترمیم اور قانون سازی نئے انتخابات اور موجودہ وزیر اعظم کے خاتمہ کے بعد ممکن ہوسکے گی۔ وہ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان حافظ حسین احمد سے ان کی رہائشگاہ پر

جماعتی امور پر مشاورت کے بعد گفتگو کررہے تھے، اس موقع پر صوبائی امیررکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، صوبائی جنرل سیکریٹری رکن قومی اسمبلی سید محمود شاہ، مولانا انوار الحق، حافظ خلیل احمد، حافظ رشید احمد، صاحبزادہ حافظ منیر احمد، حافظ زبیر احمد، رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین، ظفر حسین بلوچ اوردیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے مزیدکہا کہ متحدہ اپوزیشن نئے انتخابات کے مطالبہ پر سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے اور حزب اختلاف کی پارٹیوں کے سربراہوں کی باہمی مشاورت کا آغاز کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ ماہ دسمبر عمران نیازی پر بھاری ہوگا اور آزادی مارچ کے بعد سے اس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قوانین کے تدوین اور آئین میں ترمیم کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہفتہ رفتہ کے واقعات کے بحران سے اپوزیشن کے موقف کی تائید ہوگئی ہے، مرکزی کابینہ اور صوبہ پنجاب میں بار بار کی ”رفوگری“ سے حالات کو سنبھالا دینے والے اپنے آپ اور عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر اب عوام حکمرانوں کا اصل چہرہ پہچان چکے ہیں، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اور آزادی مارچ کے مزید ثمرات کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کرلے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…