بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

 پی ٹی آئی کے اندر مختلف گروپ بندیاں واضح ہوکر سامنے آگئیں،تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن میں پارٹی کے نظریاتی کارکن پھٹ پڑے

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

چکوال(آن لائن) ہنگامی طور پر بلایا جانے والے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن میں پارٹی کے نظریاتی کارکن پھٹ پڑے اور پی ٹی آئی کے اندر مختلف گروپ بندیاں واضح ہوکر سامنے آگئیں۔ پاکستان تحریک انصاف2013کے انتخابات میں ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پربری طرح سے پٹی تھی، سردار غلام عباس نے آزادی امیدوار کی حیثیت سے حلقہ این اے64 اور پی پی23میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

اس کے بعد پانچ سال کے عرصے میں سردار غلام عباس جنہوں نے2013کے انتخابات میں دونوں حلقوں سے ایک لاکھ 55ہزار ووٹ حاصل کیے تھے وہ 2017میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اس طرح ضلع چکوال کے سیاسی معاملات مکمل طو رپر یکطرفہ ہوگئے اور اپوزیشن بالکل سمٹ کر رہ گئی۔ پیپلز پارٹی بھی2013کے الیکشن میں بری طرح سے پٹی تھی اور اس کے پاس تو امیدوار ہی کوئی نہیں تھے۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی پوزیشن تھی۔2018کے انتخابات شروع ہونے سے قبل سردار غلام عباس پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے اور پی ٹی آئی کا چھکا سو فیصد یقینی تھا مگر سردار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر وہ الیکشن کی دوڑ سے باہر ہوئے تو آخری مرحلے میں سردار ذوالفقار علی خان پی پی23کا مسلم لیگ ن کا ٹکٹ چھوڑ کر حلقہ این اے64میں پی ٹی آئی کے امیدوار بن گئے۔ مسلم لیگ ن صرف حلقہ پی پی22میں ملک تنویر اسلم کی شکل میں صرف ایک صوبائی اسمبلی کی نشست بچانے میں کامیاب ہوئی۔جبکہ اْدھر تلہ گنگ اور لاوہ میں مسلم لیگ ق نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی کی مدد سے واضح کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران تحصیل تلہ گنگ اور لاوہ کے پی ٹی آئی کے کارکن بالکل دیوار کیساتھ لگا دیے گئے تھے۔ ورکرز کنونشن میں کرنل سلطان سرخرو بھڑک اٹھے اور پارٹی قیادت کو باور کروایا کہ ہمیں گزشتہ سوا سال میں مسلسل نظر انداز کردیا گیا ہے۔

سابق وائس چیئرمین چوہدری خورشید بیگ جن کا تعلق سردار غلام عباس گروپ سے ہے انہوں نے اور راجہ عرفان شہزاد دھروگی نے اپنے قائد سردار غلام عباس کا بھرپور انداز میں ذکر کیا اور پی ٹی آئی کی کم بات کی جبکہ علی ناصر بھٹی نے نظریاتی کارکنوں کو آگے لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ چوہدری احسن زاہد نے بھرپور انداز میں نوجوان کارکنوں کو آگے لانے کی بات کی،پی ٹی آئی کے ورکرز کنونشن کا جائزہ لیا جائے تو اس میں نظریاتی کارکن آٹے میں نمک کے برابر تھے اور گزشتہ دو تین سالوں میں پارٹی میں شامل ہونے والوں کا جم گٹھا تھا۔شمالی پنجاب کی قیادت نے پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز پر زور دیا کہ وہ تنظیمی معاملات میں نظریاتی کارکنوں کو آگے لے کر آئیں۔ حاضری کے اعتبار سے پورے ضلع چکوال سے پانچوں تحصیلوں کی بھرپور نمائندگی تھی مگر پی ٹی آئی میں عزت اور احترام نہ ملنے پر گلے، شکوؤں کی بھرمار کردی گئی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…