ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ملتان روڈ رکشہ دھماکے میں ڈرائیور کو کلین چٹ مل گئی ، مبینہ دہشت گرد نے کیسے کپڑے پہن رکھے تھے؟ خاکہ تیار

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )ملتان روڈ رکشہ دھماکے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دو دن قبل رکشے میں ہونے والے دھماکے کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے رکشہ ڈرائیور کو کلین چٹ دے دی۔

رکشہ ڈرائیو نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبینہ دہشت گرد کا حلیہ بتا دیا۔رکشہ ڈارئیور محمد رمضان کی مدد سے مبینہ دہشت گرد کا خاکہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔رکشہ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گرد نے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی جو شیرا کوٹ سے رکشہ میں بیٹھا اور بارودی مواد نصب کیا۔اداروں نے مبینہ دہشت گرد کی تلاش شروع کر دی ہے۔جب کہ رکشہ ڈرائیور کے بیان کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے سے بھی تصدیق کر لی گئی ہے۔ ملتان روڈ پر ہونے والے رکشہ دھماکے کے حوالے سے مختلف قیا س آرائیاں پھیلتی رہیں ،بم دھماکے کے حوالے سے پہلے یہ اطلاع آئی کہ چوبرجی کے قریب بجلی کا ٹرانسفارمر پھٹ گیا ہے۔جس سے تین افراد جھلس گئے ہیں دوسری اطلاع یہ ملی کہ رکشہ کا ناقص سلنڈر پھٹ گیا ہے جس میں تین افراد سوار تھے جو زخمی ہیں، جائے وقوعہ کے حوالے سے لاہور کے مقامی نیوز چینل نے یہ خبردی کہ جائے وقوعہ ایل او ایس کا نالہ ہے لیکن آخری اطلاع پر تصدیق ہوئی کہ یہ بم دھماکہ ہے۔جب کہ سی ٹی ڈی نے ملتان روڈ رکشہ دھماکہ کا باقاعدہ مقدمہ درج کرلیا ہے۔یہ مقدمہ سی ٹی ڈی انسپکٹر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ جس میں دہشت گردی کی دفعات سمیت اقدام قتل کی دفعہ شامل ہیں۔

جبکہ سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونیوالے بم ٹائم ڈیوائس کی نوعیت کا تھا۔ جو وقت سے پہلے ہی پھٹ گیا۔ دوسری طرف دھماکے میں استعمال ہونیوالے رکشے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ رکشہ کا پہلا مالک حمزہ سعید نامی شہری تھا۔ جو 22 مئی 2015 میں رجسٹرڈ کیا گیا۔ بعدازاں رمضان نے حمزہ سعید سے خرید لیا۔ جس کے لائف ٹائم ٹوکن ادا کئے جاچکے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…