جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ میں بحث اور ترمیم کی منظور ی،حکومت نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کونالائق اور نااہل کہنے والے سورماؤں نے اپنے وزیر اعظم کو پانامہ میں نااہل کروایا اور ان کو جیل بھجوایا، حکومت کو ئی سمری عدالت میں ریجکٹ نہیں ہوئی بلکہ سپریم کورٹ نے ہمیں دوبارہ سمری بدلنے کا موقع دیا تھا، کوئی بھی محب وطن حکومتی یا اپوزیشن رہنما آرمی چیف کی تعیناتی بارے قانون سازی کی مخالفت نہیں کرے گا۔

قانون سازی کیلئے حکومت پارلیمنٹ میں بحث کرائے گی اور ترمیم منظور کروائے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئیفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی چیف کے معاملے پر حکومت کی کائی سمری ریجکٹ نہیں ہوئی اگر ریجکٹ ہوتی تو حکومت کو دوبارہ موقع نہ دیا جاتا، سپریم کورٹ ہماری جو راہنمائی کررہی تھی ہم اس کے مطابق سمری بنارہے تھے اور شکر گزار ہوں کہ چیف جسٹس نے حکومت کو اس معاملے پر موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پہلی مرتبہ حکومت میں آئی ہے اور یہ پہلا ہمارا امتحان تھا کیوں کہ ہم نے پہلے کسی آرمی چیف کو ایکسٹنشن نہیں دی اور ہم نے مشکلات مشکلات سے سیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ حکومت کو نااہل اور نالائق کہتے ہیں ان کیلئے میرا جواب یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے سورمااور لیگل ٹیم کے بڑے بڑے نام پانامہ کیس میں اپنے ہی وزیر اعظم کا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور ان کو جیل بھیج دیا مگر آج عدالت بھی ہمارے وزیر اعظم کے اختیارات کو تسلیم کررہی ہے اور اس فیصلے سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عدالت نے پارلیمنٹ پر اعتماد کیا ہے اور پارلیمنٹ پر قانون سازی کا معاملہ چھوڑا ہے جس سے جمہوریت اور پارلیمنٹ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمری کے معاملے پر کسی کی غلطی نہیں تھی یہ قانونی معاملات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے قانون سازی کسی کی ذات کے ساتھ جڑی ہے اوعر نہ کسی شخصیت کے حوالے سے یہ کیس تھا بلکہ یہ ایک قانونی معاملہ تھا

اور ہم اس حوالے سے پارلیمنٹ میں قانونی سازی کرینگے اور پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بحث بھی ہو گی کیونکہ یہ ایکٹ پارلیمنٹ میں بننا ہے پر نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے اس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں سنجیدگی بحث کرینگے، انہوں نے کہا کہ سیاست میں سیاستدان ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کرتے رہتے ہیں مگر قومی معاملات پر نہیں کرتے، فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی چیف کے معاملے پر درخواست دینے والے شخص کے پہچے کون ہے؟ اور اس نے یہ پنڈورہ باکس کیوں کھولا یہ ہمیں نہیں پتا لیکن کوئی مافیا ضرور ہوگا،

انہوں نے کہا کہ یہ بات ہر حکومتی ادارے ہر اپوزیشن جتنی سیاست کرے مگر فوج اور آرمی چیف کے معاملے پر نہیں ہونی چاہئے کیونکی اس سے ملک میں انتشار پھیلے گا، ہم پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر ہنگامہ آرائی نہیں ہوگا  اور ہم اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرینگے، اور یہ لیڈر آف دی ہاؤس کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون سازی کو منظور کروائیں گے، حکومت اور اپوزیشن میں کوئی بھی جو محب وطن ہے وہ پاک فوج کے سپہ سالار کی تعیناتی کے حوالے سے قانون سازی کی مخالف نہیں کرے گا، کوئی بھی محب وطن شخص آرمی چیف کا مخالف نہیں ہو سکتا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…