جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

فوج کے حساس ترین معاملات پرقانون سازی کا حق قبضہ گروپ کونہیں دے سکتے،تمام اپوزیشن متفق،مولانافضل الرحمن نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ فوج کے حساس ترین معاملات پرقانون سازی کا حق ووٹ چوری کرکے حکومت بنانے والے قبضہ گروپ کونہیں دے سکتے،تمام اپوزیشن اس بات پرمتفق ہے کہ موجودہ اسمبلی کوفوری تحلیل کرکے ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں اوراسی بنیاد پرحکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی تحریک جاری رہے گی،

الیکشن کمیشن قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ کرے،ایسا نہ کیا گیا توالیکشن کمیشن پرعوام کا اعتماد ختم ہوجائے گا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعہ کوکراچی میں الیکشن کمیشن سندھ کے دفترکے باہرجمعیت علمائی اسلام کی میزبانی میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔احتجاجی مظاہرے سے جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو،اے این پی سندھ کے صدرشاہی سید، مسلم لیگ نون کے علی اکبرگجر،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے نذیرجان نیشنل پارٹی کے رمضان میمن، جے یوپی کے مستقیم نورانی قوی وطن پارٹی کے سرداراحمد نواز،جمعیت اہلحدیث کے مولانا افصل سردار،جے یوآئی کے مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا عبدالجلیل جان مولانا عتیق الرحمن مولانا عبدالحق عثمانی، مولانا عمرصادق مولانا نورالحق دیگرنے خطاب کیا۔ اس موقع پرجے یوآئی کے مولانا عبدالکریم عابد،قاری عثمان مولانا سعید یوسف، ڈاکٹرنصیرالدین سواتی، اے این پی کے یونس بونیری، دیگرجماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عدالت نے قانون سازی کی ہدایت کی ہے پاکستان کا حساس اورانتہائی حساس ادارہ فوج ہے اوراس ادارے کی قیاد ت کوانہوں نے جس طرح بے توقیرکیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس قانون ہے نہ اہلیت ہے،عدالت نے قانون سازی کے ذریعہ معاملات ٹھیک کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن ہم ان حساس معاملات پرقانون سازی کا حق ان کونہیں دے سکتے ہیں یہ ووٹ چوری کرکے آئے ہیں موجودہ اسمبلی کوفوری تحلیل کرکے نئے انتخابات کرائے جائیں،

عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ لائی جائے، تمام اپوزیشن اس پرمتفق ہے ایک پیچ پرہے اوراسی پرتحریک چلارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک کروڑنوکریاں دینے کا وعدہ کیا مگرکروڑوں لوگوں کوبے روزگارکیا گیا ہے میڈیا پربیجا پابندیاں عائد کرکے مجبورکیا گیا ہے وہ قوم کوحقائق نہ بتائے، میڈیا پرمزید پابندیاں عائد کی جارہی ہیں میڈیا سے ہونے والی زیادتیوں کی مذمت کرتے ہیں اوران کے ساتھ ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا عوام نے عزم کیا ہے کہ ان ناجائز قابضین سے حکومت لیجائی گی حکمران جماعت اپنے احتساب سے فرار حاصل کررہی ہے،

حکمرانوں کو ان کے ہی آئینے میں چہرہ دکھانے کا وقت آگیا ہے انہوں نے عوام کے ووٹ کوچوری کیا ہے،کے پی میں پانچ برس سے ان کی حکومت وہاں پروہ اسکا حساب دینے یا احتساب کے لیے تیارنہیں عوام نے دیکھ لیا ہے کہ ان کا چہرہ کس طرح کا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک قومی ادارہ ہے وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کا فوری قانون کے مطابق فیصلہ کرے ایسا نہ ہوکہ عوام کا الیکشن کمیشن پراعتماد ختم ہوجائے الیکشن کمیشن اپنا وجود کھونے سے پہلے عوام کو مطمئن کرے۔انہوں نے کہاکہ یہ قبضہ گروپ ہے

انہوں نے ملک کویرغمال بنایا ہوا ہے ہم نے ملک ان کے لیے نہیں بنایا تھا کہ یہ ووٹ چوری کرکے حکومت بنالیں اورقبضہ جمالیں،ملک اگر عوام کے لئے حاصل کیا گیا تھا تو پھر اقتدار پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، آج اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں پوری اپوزیشن اس بات پرمتفق ہے کہ ان کے خلاف ملک بھرکے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاج کیا جائے،اسلام آباد کے آزادی مارچ نے ان کی چولیں ہلادی ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ انہوں نے ملکی معیشت کوتباہ کردیا ہے گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکے کی ضرورت ہے، ملکی معیشت سمندر میں غرق ہو رہی ہے

اور یہ عیاشیاں کر رہے ہیں،عوام کو اشیا خورد ونوش دستیاب نہیں اوریہ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں کبھی ٹماٹرسترہ روپے کلو بیچنے کی بات کر رہے ہیں اورکبھی مٹرپانچ روپے فی کلو فروخت کرنے کی بات کرتے ہیں، میں ہوائی جہاز میں کراچی کے لیے سفرکررہا تھا تو عملے نے کہاکہ ان کی تمام مراعات ختم کردی گئی ہیں اب بنیادی تنخواہ پرگذارہ کرنا پڑرہا ہے،لائیٹس ختم کر دی گئی ہے، 400 ادارے ختم کرنی کی باتیں کی جارہی ہیں، ایک کروڑنوکریاں دینے والوں نے کروڑوں لوگوں کوروزگارسے محروم کردیا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدرشاہی سید نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ

ا لیکشن کمیشن کو احساس دلانے کے لیے یہاں احتجاج کررہے ہیں،الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا،ماضی کے انتخابات میں بھی چوری ہوئی مگر 25 جولائی 2018 کو تو سینہ زوری کی گئی،انہوں نے کہاکہ یوٹرن عمران نیازی کا طرہ امتیاز ہے،عمران خان اپنے گھر میں بھی یوٹرن لیتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے علی اکبرگجرنے کہاکہ ہم پہلے بھی کہتے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نااہل ہے،آرمی چیف کی مدت میں توسیع کو بھی حکومت نے تماشہ بنادیا،ملک کو چلانا موجودہ حکومت کے بس میں نہیں ہے۔مظاہرے میں جمعیت علماء اسلام اوراپوزیشن جماعتوں کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی اورملک میں نئے انتخابات کرانے اورحکومت کی برطرفی کے لیے نعرے بازی کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…