جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

حمزہ شہباز پروڈکشن آرڈر پراسمبلی میں آمد کے بعداسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے کے بجائے کیا کرتے رہتے ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے غیر آئینی قانون سازی کرنے کا اپوزیشن کا الزام مسترد کر تے ہوئے کہاہے کہ قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی آتے ہیں لیکن اپنے مہمانوں سے ملتے ہیں،پریس کانفرنس کرتے ہیں اورکاروبار کے معاملات دیکھ کر چلے جاتے ہیں،اسمبلی کا ریکارڈ چیک کر لیں موجودہ سیشن میں قائد حزب اختلاف کا کیا کردار رہا،حکومت آرٹیکل 154/6 پر عملدرآمد کر رہی ہے،

اپوزیشن نے کہا تھا کہ وہ اس حوالے عدالت میں جائے گی۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے صوبائی وزیرقانون نے کہاکہ قائد حزب اختلاف پروڈکشن آرڈر کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا پور ا کرتے رہے، صبح نو بجے آجاتے تھے اور شام تک بیٹھ کر چلے جاتے تھے۔انہوں نے ایوان کی کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیا حالانکہ پروڈکشن آرڈر اس لئے جاری ہوتا ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی کاحصہ بنیں۔ صوبائی وزیر قانون نے کہاکہ ہم تو آرٹیکل 154/6 کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ہم نے جب اس آرٹیکل کا اطلا ق کیا تو اپوزیشن نے کہاکہ ہم عدالت جائیں گے،میں ان کو یادہانی کرواتا ہوں اگر ہم غیر آئینی غیر قانونی کام کر رہے ہیں تو اپوزیشن عدالت میں جائے۔انہوں نے کہاکہ میں نے نیب عدالت کی فوٹیج منگوا کر دیکھی ہے کہیں بھی چالیس آدمی (ن) لیگ کے اراکین اسمبلی یار کارکنوں کو نہیں ماررہے بلکہ چالیس آدمیوں سے زیادہ ن لیگ کے کارکنان پولیس کے ساتھ دھکم پیل کررہے ہیں جب ایک شخص کے ساتھ چالیس، چالیس آدمی پیشی پر جائیں گے تو ان کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اس لئے ان کا اعتراض درست نہیں تھا۔ اس کے باوجود میں نے کو یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ اس طرح کا کوئی واقعہ نہیں ہوگا اور جو پہلے بھی ان کا واقعہ ہواتھا اس پر ہم نے پولیس کے ساتھ ان کی میٹنگ کروائی تھی اور باقاعدہ ایک طریقہ کار طے کیا تھا لیکن یہ ہر روز ایک نیا ایشو لے کر آجاتے ہیں اور مقصد ان کا یہ ہی ہے کہ ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا قانون سازی اور ایوان کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ معزز ایوان کی تاریخ میں پہلی بار وقفہ سوالات، پرائیویٹ ممبر ڈے اور دیگر اہم مواقعوں پر بائیکاٹ کی روایت ڈال رہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…