جمعیت علماء اسلام  نے  نواز شریف کو باہر بھجوانے کا کریڈٹ اپنے سر لیتے ہوئے ” این آر او“کا اعتراف کرلیا،نئے ”پلان“ پرعملدرآمد شروع

  پیر‬‮ 25 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  19:58

اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علماء اسلام نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو باہر بھجوانے کا کریڈٹ اپنے سر لیتے ہوئے اسے این آر او کا نام دیدیا ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی اور بیرون ملک بھجوانے کے لیےایک بار پھر اپوزیشن کی اے پی سی منگل کو ہوگی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جمعیت علماء اسلام نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی سے لیکر انہیں بیرون ملک علاج کے لیے روانگی کا کریڈٹ اپنے سر لیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی مشترکہ کوششوں سے حکومت


پر پریشر بڑھایاجس کے پیش نظر نواز شریف کو باہر ملک علاج کے لیے بھیجا گیا ہے،اس حوالہ سے گزشتہ روز مولانا کفایت اللہ نے بھی برملا اظہا رکیا کہ نوازشریف کی بیرون ملک روانگی جے یو آئی ایف کی مرہون منت ہے،جبکہ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے آج کی اے پی سی میں سابق صد ر آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق مولانا فضل الرحمن سے الگ مشاورت کریگی اور اس حوالہ سے ایک پلان کے تحت ضلعی سطع پر نیا احتجاجی سلسلہ شروع کیا جائے گا،نئے پلان میں ذرائع کا کہنا  ہے کہ پاکستان مسلم لیگ برائے نام ہی شامل ہو گی او ر انہیں لندن سے ہدایات بھی موصول ہو چکی ہیں کہ حکومت کے خلاف شد ت سے دھڑا بندی نہ کی جائے ۔  وزیر اعظم میاں نواز شریف کو باہر بھجوانے کا کریڈٹ اپنے سر لیتے ہوئے اسے این آر او کا نام دیدیا ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی اور بیرون ملک بھجوانے کے لیے ایک بار پھر اپوزیشن کی اے پی سی منگل کو ہوگی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎