جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سمگلنگ روکنے کیلئے کسٹم، سکیورٹی فورسز کے نئے دستے تشکیل دینے کا فیصلہ  

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے بارڈر مانیٹرنگ انیشی ایٹو (بی ایم آئی) کے تحت سرحد پار اسمگلنگ پر نظر رکھنے کے لیے اعلیٰ تکنیکی مہارتوں سے لیس کسٹم اور پیرا ملٹری فورس کے دستے تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا۔اس بارے میں ایک سینئر حکومتی عہدیدار   کا کہنا  ہے کہ  گلگت بلتستان اسکاؤٹ اور پاکستان کوسٹ گارڈ کے 2 اضافی دستوں کے ساتھ وزیراعظم عمران خان نے 2 ہزار سے

زائد اہلکاروں کو بھرتی کرنے کی منظوری دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے  مطابق مذکورہ بھرتیاں متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے سخت سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد کی جائیں گی۔اس سلسلے میں ابتدائی 2 برس کے لیے پاکستان کسٹم کو اہم کردار دیا گیا ہے، جس میں انہیں جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات، لاجسٹک سپورٹ، ہتھیاروں سے لیس کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کسٹم کی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے ڈائریکٹریٹ جنرل آف لا اور پراسیکیوشن قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔علاوہ ازیں شہدا پیکج کے تحت پولیس اہلکلاروں اور پیرا ملٹری اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا سلسلہ پاکستان کسٹم آفیسرز اور حکام تک وسیع کردیا گیا ہے جو فرض کی راہ میں زندگی ہار گئے۔بی ایم آئی میں بہتر بارڈر مانیٹرنگ سہولیات بھی شامل ہیں، جس کی لاگت صرف بلوچستان کے لیے 52 ارب روپے ہے جہاں مسلح افواج کا اہم کردار ہے۔علاوہ ازیں براہِ راست وزیراعظم کی زیر نگرانی اسٹیئرنگ کمیٹی برائے انسداد اسمگلنگ (اے ایس ایس سی) بھی قائم کی گئی ہے جس کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم نے اسمگل شدہ اشیا کی قیمتیں معقول بنانے کے لیے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پر مشتمل کمیٹی بھی قائم کردی۔ مزید برآں انہوں نے 3 تا 6 ماہ میں قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر کراسنگ پوائنٹ ٹاسک فورس قائم کرنے کی بھی ہدایت کی، جس میں وزارت داخلہ، تجارت، انسداد منشیات، بحری امور، قانون و انصاف، دفاع اور وزرائے اعلیٰ اور انٹیلیجنس ایجنسیز کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں۔‎



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…