شریف برادران نے گارنٹی کے طور پر خود کو عدالت میں گروی رکھوا دیا، نوازشریف کا نام ای سی ایل سے کب تک نہیں نکالاجائے گا،حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا

  اتوار‬‮ 17 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  22:11

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے میں  کابینہ کے فیصلے کی روح کو برقرار رکھا، نواز شریف اور شہباز شریف نے گارنٹی کے طور پر خود کو عدالت میں گروی رکھوا دیا ہے، واپس نہ آنے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو جائیگی، ابھی ہائی کورٹ نے کیس مزید سننا ہے، انڈیمنٹی بانڈ کا معاملہ بھی عدالت سنے گی،ہمیں ابھی تک آفیشل کاپی نہیں ملی، آفیشل کاپی وزارت داخلہ کو ملے گی، ای سی ایل سے نام وہ نکالے


گی،حتمی فیصلہ منگل کو کابینہ کرے گی،حکومت فیصلے پر سو فیصد متفق ہوتی ہے یا نہیں،یہ کابینہ فیصلہ کریگی،نواز شریف کو ملنے والی 4 ہفتے کی مہلت ختم ہوگی تو دوبارہ عدالت سے توسیع کیلئے رابطہ کرنا پڑیگا،جنوری کے مہینے میں یہ کیس دوبارہ لگے گا اور سماعت ہوگی۔ اتوار کو یہاں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے رات دیر گئے لاہور  ہائی کورٹ کا شارٹ آرڈر آیا ہے،  وزارت داخلہ کو جب ای سی ایل سے نکالنے کا آرڈر موصول ہوا تو فوری طور پر کارروائی شروع کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے سفارشات کابینہ کے سامنے رکھیں تھی، سفارشات کے مطابق سزا یافتہ مجرم کو قانون کے مطابق ای سی ایل سے نام نہیں نکالا جا سکتالیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ون ٹائم اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ سفارشات کے مطابق چار ہفتوں کی اجازت دی جائے صحت یاب ہوکر نواز شریف واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ سزا یافتہ کی واپسی کو انشور کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی کے ماضی کو دیکھ کر ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے، ماضی میں یہ وعدے توڑتے رہے۔شہزاد اکبر  نے کہاکہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ یہ صادق اور امین نہیں ہیں، ان کے بچے عدالتوں سے مفرور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انڈیمنٹی کی شرط ان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے بہت ضروری تھی۔شہزاد اکبر نے کہاکہ ہمارا ماننا ہے لاہور ہائی کورٹ نے کابینہ ون ٹائم اجازت کے کابینہ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے،  چار ہفتوں کی اجازت کا فیصلہ بھی برقرار رکھا گیا۔شہزاد اکبر  نے کہاکہ انڈیمنٹی کی جگہ لاہور ہائی کورٹ نے انڈرٹیکنگ کی شرط رکھ دی، انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی کی گئی تو یہ سنگین جْرم ہوگا۔شہزاد اکبر  نے کہاکہ انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی سے ان کا مستقبل بھی متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ  فیصلہ کابینہ کے فیصلے کو ری انفورس کرتا ہے، انڈیمنٹی بانڈ ریکوری کے لئے نہیں مانگا گیا تھا،اب اگر یہ واپس نہیں آتے تو یہ عدالت کے مجرم بھی ہونگے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہاکہ ہائی کورٹ کے آرڈر میں چند کروشل چیزیں لکھی گئی ہیں، عدالت نے کہا اگر نواز شریف ون ٹائم اجازت مانگیں گے تو کیس سنا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ون ٹائم اجازت ہے، ان کا بیگراؤنڈ ٹریک ریکارڈ صحیح نہیں ہے، عدالت نے اس لئے انڈرٹیکنگ لی کہ عدالت کو بھی ان پر یقین نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت نے بانڈ کا اشو ختم کر دیا، عدالت نے کہا بانڈ کا اشو انڈر جوڈیشل سکروٹنی آئیگا۔ انہوں نے کہاکہ اگر نواز شریف کی صحت ٹھیک نہیں ہوتی تو ظاہر ہے دوبارہ معاملہ عدالت جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ پھر دیکھا جائے گا کہ کیا وہ باہر جانے کا بہانہ کر رہے ہیں یا واپس نہیں آنا چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ اگر واپس آنے سے گریز کریں گے تو انڈیمنٹی بانڈ سے بھی زیادہ سخت ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف اور شہباز شریف نے گارنٹی کے طور پر خود کو عدالت میں گروی رکھوا دیا ہے، گروی رکھوانے سے یہ ایکسپوز ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ واپس نہ آنے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوجائیگی۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ انشور کرانے کا مطلب یہ ہے بندہ اپنے کندھے پر بوجھ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ واپس نہ آئے تو عدالت صادق اور امین کے پیرائے کی طرف جائیگی۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے جو باتیں کہی تھیں ان ہر پورا عملدرآمد ہوا ہے۔شہزاد اکبر نے کہاکہ حکومت کا یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ عام انسان اور ان جیسے لوگوں کے لئے ایک ہی قانون ہو۔انہوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں حکومت کے موقف کو مزید تقویت بخشی اور حکومتی نمائندے کو رسائی دی کہ وہ نواز شریف کے طبی معالج اور ان کی صحتیابی سے متعلق جائزہ لے سکے گا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ اگر نواز شریف کسی دوسرے ملک جائیں گے تو عدالتی حکم نامہ ساتھ لگا کر متعلقہ ملک کے حکام کو آگاہ کریں گے کہ یہ ہمارے ملک میں سزایافتہ مجرم ہے اور طے شدہ شرائط کی بنیاد پر آپ کے پاس رہے ہیں،سزایافتہ شہریوں کی حوالگی کا اصول مختلف ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ ابھی ہائی کورٹ نے کیس مزید سننا ہے، انڈیمنٹی بانڈ کا معاملہ بھی عدالت سنے گی۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ ہمیں ابھی تک آفیشل کاپی نہیں ملی، آفیشل کاپی وزارت داخلہ کو ملے گی ای سی ایل سے نام وہ نکالے گی،حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ منگل کو اجلاس میں کابینہ کے سامنے معاملہ رکھا جائیگا۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ شارٹ آرڈر نہیں انٹیرم آرڈر ہے۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ کابینہ پہلے ہی ون ٹائم اجازت دے چکی ہے، انٹیرم آرڈر کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے لیکن وہ کابینہ کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ وزارت داخلہ نے صرف نوٹیفائی کرنا ہے، مخصوص حالات میں ایک بار اجازت دی جا سکتی ہے۔شہزاد اکبر نے کہاکہ حکومت فیصلے پر سو فیصد متفق ہوتی ہے یا نہیں یہ کابینہ فیصلہ کریگی،میمورنڈم پر پیر  تک فیصلہ کریں گے،دیکھیں گے کہ کیا پرانے میمورنڈم دکھا کر جا سکتے ہیں۔ایک سوال پر شہزاد اکبر نے کہا کہ جو لوگ نواز شریف سے متعلق بات کرتے ہیں کہ 3 دفعہ کے وزیراعظم رہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ سابق وزیراعظم سپریم کورٹ آف پاکستان سے صادق و امین کی سند حاصل نہیں کرسکے تھے۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ عدالت نے واضح کردیا کہ کابینہ کا فیصلہ ماننے کے بعد ہی نواز شریف بیرون ملک جائیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ فیصلے کو پڑھ کر واضح ہوتا ہے کہ شریف برادران کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں جس کی وجہ سے عدالت کو ان پر یقین نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو یقین نہیں تھا کہ یہ ٹھیک میڈیکل رپورٹ بھیجیں گے بھی یا نہیں اس لیے حکومتی نمائندے کو خصوصی اختیار دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ضمانتی بانڈ سے فائدہ اٹھانے کے لیے سول کورٹ میں جاناپڑتا اور بہت وقت لگاتا لیکن اب نواز شریف اور شہباز شریف نے حلف نامے کے ذریعے خود کو گارنٹی کے طور پر لاہور ہائیکورٹ کے حوالے کردیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جب نواز شریف کو ملنے والی 4 ہفتے کی مہلت ختم ہوگی تو انہیں دوبارہ عدالت سے توسیع کے لیے رابطہ کرنا پڑیگا۔انور منصور خان نے کہا کہ جنوری کے مہینے میں یہ کیس دوبارہ لگے گا اور سماعت ہوگی۔

موضوعات:

loading...