ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ سٹیشن کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو،کم سے کم کیا چاہتے ہیں؟مولانافضل الرحمان کھل کر بول پڑے

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ  وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے، کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں،اصلاحات کے بغیر الیکشن منظور نہیں۔مولانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں،

اصلاحات کے بغیر تو الیکشن ہمیں بھی منظور نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو۔انہوں نے کہا کہ موجودہ الیکشن ایکٹ پر بھی عمل کرلیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں کارکن ہوں بڑی اپوزیشن جماعتوں سے اپوزیشن کا سٹئرنگ نہیں چھینا،اے پی سی نے طے کردیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقوں سے موجودہ صورتحال میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی ضمانت کی خبر سنی ہے ابھی رہا نہیں ہوئی،مریم نواز مارچ میں شرکت کریں گی یا نہیں ابھی نہیں کہہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ بھی تو آئینی آپشن ہے،استعفی نہیں آتا تو حکومت سنجیدہ نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ڈی چوک سے پرانا تعفن ختم نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کورکمانڈر ز کانفرنس نے تناو نہ ہونے کی بات کرکے تصدیق کردی کہ تناو موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ  وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے، کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں، اے پی سی نے طے کردیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…