ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

جب بھٹو کو تختہ دار پر کھینچا گیا اس وقت فضل الرحمان کے والد مفتی محمود بھٹو مخالف تحریک کے تین بڑے رہنماؤں میں شامل تھے،کیا تاریخ اپنے آپ کو دھرا رہی ہے؟ جنرل(ر) علی قلی خان کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)سابق فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز آف پاکستان کے صدر جنرل علی قلی خان نے ملک کی موجدہ سیاسی صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے تصادم کا امکان موجود ہے اور موجودہ نازک حالات میں ملک سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ملکی حالات پر دوستوں کو تشویش لاحق ہے جبکہ دشمن خوشیاں منا رہے ہیں۔

جنرل علی قلی خان نے وی او پی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ فوج پر جانبداری اور الیکشن میں دھاندلی کرنے کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔اداروں کوسیاست میں کھینچ کر متنازعہ نہ بنایا جائے۔ تصادم کی سیاست ملکی مفاد میں نہیں ہے۔اگر دھاندلی ہوئی ہوتی توعام انتخابات کے بعدکسی بھی پارٹی نے الیکشن کمیشن یا پارلیمانی کمیشن میں مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا۔فوج نے ضرورت پڑنے پرہمیشہ منتخب حکومت کی مدد کی ہے اور سابق حکومت کو فیض آباد دھرنے کے موقع پر فوج نے ہی مداخلت کر کے بچایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف احتجاج کا حق ہے مگر نئے الیکشن کا مطالبہ نیب کے شکنجے میں آئے ہوئے سیاستدانوں کو بچانے کی کوشش لگتی ہے۔اجلاس میں وائس ایڈمرل احمد تسنیم، ائیر مارشل مسعود اختر، برگیڈئیر میاں محمود، برگیڈئیرسائمن شروف، ڈاکٹر بابر ظہیرالدین، سلیم گنڈا پور، برگیڈئیر عربی خان، میجر محمد اکرم، میجر فاروق حامد خان اور برگیڈئیر سید مسعود الحسن بھی شریک تھے۔ جنرل علی قلی خان نے ملک کی موجدہ سیاسی صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج پر جانبداری اور الیکشن میں دھاندلی کر کے پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ الیکشن ہارنے والے اب بے جا الزامات عائد کر رہے ہیں جبکہ الیکشن کے وقت فوج پولنگ بوتھ سے باہر تعینات تھی اور انتخابات میں شکست کھانے والی کسی بھی پارٹی نے الیکشن کے فوراً بعدالیکشن کمیشن یا پارلیمانی کمیشن میں الیکشن ڈیوٹی سرانجام دینے والے فوجیوں کی جانب سے مس کنڈکٹ کوئی شکایت نہیں کی۔

وی او پی کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک اجلاس میں سابق عسکری ماہرین نے کہا کہ ایک اپوزیشن رہنما کی جانب سے الزامات اور دھمکیوں سے پاکستان قومی اتحاد کی یاد تازہ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے زولفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر کھینچا گیا تھا۔اس وقت بھی جے یو آئی کے سربراہ کے والد مفتی محمود بھٹو مخالف تحریک کے تین بڑے رہنماؤں میں شامل تھے۔سابق فوجیوں نے کہا کہ ایک اور سیاسی شخصیت نے کہا ہے کہ اگر اسٹیبلیشمنٹ(فوج) انکی جماعت کو پی ٹی آئی کے مقابلہ میں دس فیصد مدد دیتی تو وہ ملک کو ترقی یافتہ بنا دیتے مگر شاید وہ بھول گئے ہیں کہ

انکی حکومت کو فیض آباد دھرنے کے موقع پر فوج نے ہی مداخلت کر کے بچایا تھا جبکہ طاقت کے استعمال سے ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑتے اور صورتحال بگڑ جاتی۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف احتجاج کا حق ہے مگر نئے الیکشن کا مطالبہ نیب کی جانب سے بعض سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات کا شاخسانہ لگتا ہے۔ سیاستدان عدالتوں میں اپنا دفاع کرنے کے بجائے بہانے اور قربانی کے بکرے تلاش نہ کریں تو بہتر رہے گا۔اجلاس میں وائس ایڈمرل احمد تسنیم، ائیر مارشل مسعود اختر، برگیڈئیر میاں محمود، برگیڈئیرسائمن شروف، ڈاکٹر بابر ظہیرالدین، سلیم گنڈا پور، برگیڈئیر عربی خان، میجر محمد اکرم، میجر فاروق حامد خان اور برگیڈئیر سید مسعود الحسن بھی شریک تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…