بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

عوام کو لالچی ڈاکٹروں نے لوٹنا شروع کردیا، مریضوں کا استحصال کر کے تجوریاں بھرناشروع،فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے بھاری رشوتیں، لیبارٹریوں سے بھی کمیشن، افسوسناک انکشافات

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈاکٹر مافیا کو کنٹرول کرنے کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ڈاکٹروں کی اکثریت مسیحاؤں کے روپ میں جلادوں پر مشتمل ہے جو مریضوں کا بد ترین استحصال کر کے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔یہ وہ منافع خور ہیں جو ڈگری لیتے ہی اپنا حلف ردی کی ٹوکری میں پھینک کر عوام کے شکار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کو اخلاقیات کا پابند بنانے کا نظام وضع کیا جائے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر تھوڑی دیر کے لئے آتے ہیں  اورمریضوں سے انتہائی ہتک آمیر سلوک کرکے واپس چلے جاتے ہیں جبکہ شام کو اپنے کلینک میں انہی مریضوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں تاکہ ان کو اچھی طرح نچوڑا جا سکے۔ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اور انکے ہسپتال پیسہ کمانے کی مشین بن چکے ہیں اور مریضوں کو غیر ضروری ٹیسٹوں اور ادویات کے زریعے بھی لوٹا جا رہا ہے۔ مریضوں کواچھی اور سستی ادویات کے بجائے مہنگی اور غیر معیاری ادویات خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اسکے بدلے فارماسیوٹیکل کمپنیاں انھیں بھاری رشوتیں دیتی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں کی حالت جان بوجھ کر خراب رکھی جاتی ہے تاکہ عوام پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوں۔سرکاری ہسپتالوں کی مشینیں بھی خراب کر دی جاتی ہیں تاکہ عوام ان ہسپتالوں کے سامنے بنے ہوئے سینٹروں سے ٹیسٹ کروائیں۔ ڈاکٹر سالہا سال سے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں مگر ان پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا جو زیادتی ہے۔انھوں نے کہا کہ بعض مشہورہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو نوٹس بھیجنے اور دھمکانے سے کام نہیں چلے گا اس لئے ٹیکس حکام کو اس مافیا کے خلاف بھرپور کاروائی کی ضرورت ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ڈاکٹروں کی چالیس روز سے جاری ہڑتال کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…