ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحما ن کو اپنا لیڈر مان لیا،چوہدری شجاعت کا رابطہ،اہم مشورہ دیدیا‎

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مبارک ہو آپ نے میلہ لوٹ لیا ہے، چوہدری شجاعت حسین کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ، چوہدری شجاعت نے کہا کہ آپ کو مبارک ہو آپ نے میلہ لوٹ لیا ہے، اپوزیشن کی دونوں جماعتوں نے آپ کو اپنا لیڈر مان لیا ہے، چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ شہباز شریف تو حادثاتی اور واقعاتی طور پر اپوزیشن لیڈر بن گئے ہیں، شہباز شریف کا دھرنے میں کوئی کردار نہیں۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اصل اپوزیشن لیڈر فضل الرحمان ہیں جنہوں نے دونوں بڑی جماعتوں کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے، چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات سے فوج کے خلاف جو غلط تاثر گیا ہے اسے مٹانے کی کوشش کریں۔  دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر اور مرکزی رہنما مولانا عطاء الرحمن نے کہاہے کہ موجودہ حکمران نا اہل تھے اور ہیں آئندہ بھی اچھی پرفارمنس کی کوئی امید نہیں ہے،وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ پر تمام جماعتیں متفق ہیں، ذہن میں بہت سارے پلان ہیں،عمران حکومت کو احتجاج کے نتیجے میں جانا ہی ہوگا۔خیبر پختون خوا کے امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ ہمیں اپنے کارکنوں پر فخر ہے جنتی عزت ہمیں پاکستان کے عوام اور کارکنوں نے بخشی ہے شاید تاریخ اس کو نہ بھلا پائے نہ تاریخ میں اس سے پہلے اتنا بڑا اجتماع اسلام آباد میں ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر آپ حکومت میں ڈلیور کر تے ہیں توقوم فوراً آپ کو اتارنے کی خواہش مند نہیں ہوسکتی انہوں نے آکر ثابت کیا ہے کہ ہم نا اہل تھے،نا اہل ہیں اور آئندہ بھی ان سے اچھی پرفارمنس کی امید نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اس جعلی اور نا اہل حکومت کو عوام اسی طرح کے احتجاج سے ہٹاتا ہے اور ہمیں یقین ہے انشاء اللہ احتجاج کے نتیجے میں اس حکومت کو جانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی گفتگو میں بوکھلاہٹ بہت زیادہ ہے اور اس وقت پوری کابینہ بوکھلاہٹ کاشکار ہے۔

ایک سوال پر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ مطالبہ استعفیٰ ہے اس کے بعد ملک میں شفاف انتخابات ہیں۔انہوں نے کہاکہ جس طرح لوگوں کی حاضری ہے تمام سیاسی قائدین اس سے خوش تھے تمام حضرات نے مولانا کو کامیاب آزادی مارچ پر مبارکباد دی ہے۔انہوں نے کہاکہ دو دن کی مہلت دینے پر بھی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی رہنماؤں سے مشاورت ہوئی تھی اور معاملات رہبرکمیٹی کے حوالے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تاہم انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اور اسی کا نتیجہ ہے ہم اب تک یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ور نہ ہمارے عوام کا مطالبہ ہے کہ ڈی چوک پر پہنچا جائے۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے فیصلہ کر دیا کہ ڈی چوک جانا ہے تو ان لوگوں کو وزیر اعظم ہاؤس جانے سے بھی کوئی نہیں روک پائیگا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ذہن میں بہت سارے پلان ہیں،انشاء اللہ مجھے یقین ہے یہ حکومت نہیں رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…