جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

 جلسہ مولانا فضل الرحمان کا ہے جس میں حزب اختلاف شریک ہو رہی ہے،خطاب کون کون کرے گا؟ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ جلسہ کے دوران ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا جبکہ جلسے میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو دونوں شریک ہوں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے  سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نواز شریف کی صحت کو دیکھ رہے تھے لیکن نیب کی حراست میں جانے کے بعد ڈاکٹر عدنان کو بھی نواز شریف سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پلیٹ لٹس کا معاملہ زیادہ خراب ہو گیا تھا اور ابھی تک کنٹرول میں نہیں آ رہا۔ ان کی پلیٹ لیٹس کبھی زیادہ ہو جاتی ہیں اور کبھی کم۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف کو جب تک اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی نہیں دی جا سکتی اس وقت تک وہ اپنے علاج سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے۔ عدالت نے 8 ہفتوں کی آزادی دی ہے لیکن اتنے کم وقت میں بیرون ملک علاج کرانا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا لاہور پہنچنے پر مسلم لیگ ن کی جانب سے بھرپور استقبال کیا گیا تھا۔ شہباز شریف جلسے میں بھی شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے۔رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہم نے مولانا فضل الرحمان کے مطالبوں کی حمایت کی ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ روات میں بھی میں نے اور احسن اقبال نے اپنے کارکنان کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا کا بھرپور استقبال کیا۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ جلسے کے آغاز کے بعد تمام جماعتیں مل کر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ دھرنا اگر پر امن ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن دھرنا پرتشدد نہیں ہونا چاہیے۔ٹرین حادثے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے پر بہت سے ایس او پیز بنے ہوئے ہیں جن پر عمل کر کے دہشت گردی سے محفوظ رہا گیا لیکن اگر گیس سلنڈر ٹرین میں موجود تھا تو یہ حکومت کی ناکامی ہے۔پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہ تبلیغی جماعت والے بھائی سفر کے دوران اپنے ہمراہ بہت سارا سامان لے کر چلتے ہیں اور ریلوے میں کوئی باقاعدہ چیکنک کا نظام موجود نہیں ہے۔

بدقسمت حادثے میں لوگوں کی بھی غلطی ہے اس کا مکمل طور پر ذمہ دار ریلوے کو ٹھرایا نہیں جا سکتا۔آزادی مارچ سے متعلق بات کرتے ہوئے قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کاجمعہ کو ہمارا رحیم یار خان میں جلسہ طے ہے وہاں بھی بلاول بھٹو نے خطاب کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جلسہ مولانا فضل الرحمان کا ہے جس میں حزب اختلاف شریک ہو رہی ہے یہ حزب اختلاف کا مارچ یا جلسہ نہیں ہے۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)ف کے رہنما مولانا عطاالرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ کے پہنچنے کے بعد جلسہ ہو گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل وہیں طے کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو اور شہباز شریف دونوں جلسے میں شرکت کریں گے اور دونوں جماعتوں کی بھرپور حمایت ہمیں حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے جو مطالبات سامنے رکھے ہیں انہیں مطالبات کو ہم آگے لے کر چلیں گے۔ حکومت ہمیں برداشت نہیں کر رہی۔ جلسے میں تقریبا 15 لاکھ سے زیادہ لوگ شریک ہو رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…