جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

ذاتی معالج کی سہولیات بھی طلب، پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کے علاج کیلئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ کر دیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے سابق صدر آصف علی زرداری کے علاج کے لئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈبنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں صدر آصف علی زرداری کی صحت کو لاحق خطرات کی وجہ سے حکام کو پرائیویٹ بورڈ بنانے کی درخواست دی ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل بورڈ کا مطالبہ سرکاری ڈاکٹرز کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

سرکاری ڈاکٹروں کے بورڈ نے اپنی رپورٹ میں صدر آصف علی زرداری کی صحت کو لاحق سنجیدہ مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ خاندان اور پارٹی کے اطمینان کے لئے پرائیویٹ ڈاکٹرز اور معاونین کا بورڈ بنایا جائے۔ سینیٹرمصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت کے بنائے بورڈ نے آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے خطرے کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ کے مطابق صدر زرداری کی شریانوں میں خون جم جانا ا ن کی زندگی کے لئے خطرناک ہے جبکہ سابق صدر کا شوگر لیول بھی خطرناک حد تک اوپر نیچے ہو رہا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کے ترجمان نے کہا کہ شوگر لیول کا کنٹرول نہ ہونا صدر زرداری کی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سرکاری بورڈ نے جیل میں ہڈیوں کی بیماری مناسب بستر نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارتھو بیرنگ نہ ملنے کی وجہ سے آصف علی زرداری کی کمر کا دیرینہ مرض شدت اختیار کر گیا ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ سرکاری بورڈ نے نیورولوجسٹ کی مدد لینے کا بھی کہا ہے تاکہ غیرمعمولی جھٹکوں کا بھی علاج ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ علاج و معالجے کی مناسب سہولیات ہر شخص چاہے وہ قیدی ہو کا بنیادی حق ہے۔ قانون ہر شخص اور قیدی کے علاج و معالجے کی ضمانت دیتا ہے۔ آصف علی زرداری کے علاج کا مطالبہ کوئی ریائیت نہیں قانونی حق ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ذاتی معالج کی سہولیات فراہم کی جائیں کیونکہ ان کے فیملی ڈاکٹرزصدر آصف علی زرداری کی صحت کو بہتر طور پر جانتے ہیں اور ان کی زندگی بچانے کے لئے بہتر علاج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر نے سیاست میں برداشت کا اصول قائم کیا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ملک بھر کی جیلوں میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ انسانی بیماری پر طنز کرنے والے اخلاقی دیوالیہ کا شکار ہیں۔ سلیکٹڈ اینڈ کمپنی کی کارکردگی سیاسی انتقام تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی سوچ ہی معاشرے کو مہذب بننے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کو جیل میں رکھنے کے لئے حکومت اور نیب کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات ایک پاکستانی ہونے کے ناطے صدر آصف علی زرداری کا حق ہے یہ کوئی ریاعت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…