ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سکھوں کو خوش کرتے کرتے کہیں پاکستان مظلوم کشمیریوں کو ناراض نہ کر بیٹھے، انتہائی حیران کن بات کر دی گئی

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین تحریک جوانان پاکستان اور میثاق ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ محمد عبداللہ حمید گل نے کہاہے کہ کرتار پورہ راہداری کے ذریعے سکھوں کو خوش کرتے کرتے کہیں پاکستان مظلوم کشمیریوں کو ناراض نہ کر بیٹھے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے اس پر سمجھوتہ غداری کے مترادف ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی خارجہ اور کشمیر پالیسی کے حوالے سے میثاق ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا

جس میں قومی اور عالمی تعلقات کے ماہرین،ملکی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی انھوں نے کہا کہ بھارت امن پالیسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھے،مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم وتشدد کو رول بیک کر نے کے لیے حکومت کو خارجہ اور کشمیر پالیسی کو خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں ”نظر ثانی“ کرنا ہوگی،اور بھارت کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پوری قوم اپنی تینوں مسلح افواج کے شانہ بشانہ تیار کھڑی ہے،مظلوم کشمریوں کو استصواب رائے کاحق دلایے بغیر شیر دل قوم چین سے نہیں بیٹھ سکتی ہے محمد عبدا للہ حمید گل نے کہا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں اور ہمیشہ امن کے خواہاں رہے ہیں مگر بدقسمتی کیساتھ ہماری امن پالیسی کو بھارت نے ہماری کمزوری سمجھ لیا ہے اور پاکستان کو اب باور کرانا ہوگا کہ پاکستان قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا ہے اور دشمن کو کو کسی بھی مہم جوئی پر دندان شکن جواب دیا جاے گا تحریک نوجواناں کے سربراہ محمد عبداللہ حمید گل نے کہا کہ ہماری خارجہ آور کشمیر پالیسی کو دور حاضر کے جدید تقآضوں سے ہم اہنگ ہونا ضروری ہے انکا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسلہ تقریروں سے نہیں عملی اقدامات سے ہوگا اور بھارت پر دباو بڑھانے کے لیے پالیسوں اور پلانز کا ازسر نو جایزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے انھوں نے کہا کہ یہ تاثر زائل ہونا ضروری ہے کہ پاکستان کرتار پورہ راہداری کے زریعے سکھوں کو خوش کرتے کرتے مظلوم کشمیریوں کو ناراض نہ کر بیٹھے کشمیر ہماری شہ رگ ہے اس پر سمجھوتے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…