ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں بڑے سرکاری منصوبے کی شفاف تحقیقات کا اعلان

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی 12 میں نالے پر بننے والے منصوبے کی شفاف تحقیقات کا اعلان کر دیا۔ایک انٹرویومیں وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یہ میرا ذاتی پروجیکٹ نہیں ہے تاہم وزیر ہونے کی حیثیت سے میں جواب دوں گا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لیے اس پروجیکٹ کی زمین 2010 میں دی گئی تھی۔

اور 2012 میں اس کی آدھی رقم ادا کر دی گئی تھی جبکہ اس زمین کا قبضہ اکتوبر 2016 میں دیا گیا تھا۔طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ستمبر 2019 سے پہلے اس منصوبے کو کوئی سیل نہیں کیا، 22 ہزار سرکاری ملازمین میں سے کسی نے بھی اس منصوبے سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر کسی سرکاری عہدیدار نے اعتراض نہیں کیا جس ڈائریکٹر کو ہٹایا اس نے مارک سنز کو 173 فونز کالز کیں اور منصوبے کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میری اس منصوبے میں کوئی ذاتی دلچسپی نہیں ہے اور پی ایچ ایف میں کسی کو بھی کوئی غلط کام کرتے پکڑا گیا تو میں سے مثال بنا دوں گا۔ لوڈ ویڈنگ کپیسیٹی پر ہی بات نہ کریں اس میں اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے اور اگر آپ کے الزامات درست ثابت ہوئے تو ہم ملوث افراد کو سزا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ مارک سنز ڈیفالٹر ہے جسے مسلم لیگ ن کی حکومت نے ٹھیکا دیا تھا۔ یہ کمپنی کری روڈ منصوبے کی بھی ڈیفالٹر تھی اور اس کمپنی کو ہم درست نہیں سمجھ رہے تھے۔ اسی کمپنی نے ایل ڈی اے کے ریکارڈ میں آگ لگائی تھی۔وفاقی وزیر نے اینکر پر الزام عائد کیا کہ آپ مارک سنز کمپنی کے عہدیداروں سے بار بار کیوں مل رہے ہیں جبکہ یہ کمپنی ڈیفالٹر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے 2016 میں این او سی کے لیے سی ڈی اے کو پہلا خط لکھا تھا جس کے بعد ہم نے انہیں کئی خطوط لکھے۔انہوں نے کہا کہ آئی 12 سیکٹر سے گزرنے والا نالہ برساتی

ہے سیوریج کا نہیں ہے۔ ہم نے برساتی نالے کی وجہ سے سی ڈی اے کو خط بھی لکھا تھا کہ یہ تو نالے کی جگہ ہے اور یہ اب سی ڈی اے کے گلے میں پھنسا ہوا ہے تاہم ہم نے نالے کو متبادل راستہ دے دیا ہے جس کا اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم نے متبادل نالے کا منصوبہ جس ٹھیکیدار

کو دیا ہے اس کی قیمت سب سے کم تھی۔ ای ایم سی کی رپورٹ میں اگر غلطیاں ثابت ہوئیں ہم اس کی شفاف تحقیقات کرائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں اس منصوبے کا کام ہر گز نہیں روکوں گا اور اگر عدالت نے بھی طلب کر لیا تو میں عدالت کے سامنے ہاتھ جوڑوں گا کہ غریبوں کے اس منصوبے کو نہ روکا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…