جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

نائیک سیف علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے بھارتی فوجی اپنے جوانوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے ،ماضی کی شاندار داستان

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پر جان قربان کرنے اور نشان حیدر پانے والے پہلے کشمیری نائیک سیف علی شہید کا 71 یوم شہادت منایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سیف علی شہید نے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں پیر کلیوہ کے مقام پر دشمن کو ناکون چنے چبواتے ہوے جام شہادت نوش کیا۔ناییک سیف علی جنجوعہ 18 سال کی عمر میں برٹش انڈین آرمی میں شامل ہوے،1947 میں وہ سردار فتح محمد کریلوی کی حیدری فورس میں

شامل ہو گئے جہاں انہیں ناییک کا عہدہ دیا گیا،14 اگست 1947 سے لیکر آج تک قیام پاکستان کے دشمن بھارت نے 1948 میں جنت نظیر کشمیر پر حملہ کر کے پیر کلیدہ راجوری کی ایک بلند چوٹی پر قبضہ کر کے وہاں اپنی چوکی قائم کر لی، دفاعی نکتہ نظر سے اہمیت کی حامل اس چوٹی سے دشمن کا قبضہ ختم کرانے کا ٹاسک ناییک سیف علی جنجوعہ کو سونپا گیا،وہ ایک مختصر سی پلاٹوں کے ہمراہ مہم پر روانہ ہوئے۔26 اکتوبر 1948 کی صبح سیف علی نے جو چوکی کے قریب ہی ایک مورچے میں موجود تھے اپنے اوپر سے ایک بھارتی طیارہ گزرتے دیکھا، انہوں نے حملے کی زد میں آنے سے پہلے ہی مشین گن سے دشمن کے طیارے پر فائرنگ شروع کر دی، طیارہ قلابازیاں کھاتا زمین بوس ہو گیا، اسی دوران نائیک سیف علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے، یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بھارتی فوجیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا اور وہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگنے لگے،اسی وقت ان میں سے ایک نے بھاگتے ہوئے توپ کا ایک گولہ داغا جو سیف علی کے سینے پہ جا لگا اور وہ شجاعت کی عظیم داستان رقم کرتے کے بعد شہید ہو گئے ۔آزاد کشمیر حکومت نے 14 مارچ 1949 کو سیف علی کو ہلال کشمیر سے نوازا، جسے 30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے نشان حیدر کے مساوی قرار دیدیا۔ نائیک سیف علی شہید کی جرات و بہادری اور پاک دھرتی کے لیے لازوال قربانی کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 30 اپریل 2013 کو انکی یاد میں یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…