ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آزادی مارچ، حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان حکومت مخالف ‘آزادی مارچ’ کے حوالے سے دو مراحل میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔گذشتہ روز مذاکرات میں چند گھنٹے کے وقفے کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی ایک بار پھر اسلام آباد میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کی رہائش گاہ پہنچی۔

تاہم فریقین کی بات چیت کسی نتیجے کی طرف نہیں پہنچ سکی اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ ‘کافی بات چیت ہوئی لیکن آج فیصلہ نہیں ہو سکا تاہم مذاکرات جاری رہیں گے۔رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ ‘ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے جبکہ آئندہ مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ بھی طے نہیں ہوئی۔قبل ازیں حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے دوران اپوزیشن نے اپنے تمام مطالبات ان کے سامنے رکھے جس کے بعد فریقین نے قیادت سے مشورے کے لیے مذاکرات میں وقفہ دیا۔زرائع کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیاں چار نکات میں سے صرف ایک نکتے پر مذاکرات ہوئے جبکہ دیگر مطالبات پر کوئی بات نہیں ہوئی جن میں وزیر اعظم کا استعفیٰ، نئے انتخابات اور آئین میں موجود اسلامی دفعات کا تحفظ شامل تھا۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ڈی چوک پر جلسے کی اجازت دینے سے معذرت کرتے ہوئے اپوزیشن کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسے کی تجویز دی۔تاہم اپوزیشن نے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے انکار کر دیا۔اس موقع پر حکومتی کمیٹی نے ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی اپوزیشن کے سامنے رکھا۔حکومتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے چاروں مطالبات تحریری طور پر حکومتی ٹیم کے حوالے کر دیے ہیں اور حکومتی ٹیم نے مطالبات پر وزیر اعظم سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام کے بعد حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ دونوں طرف سے تجاویز دی گئی ہیں اور انشااللہ جلد خوشخبری دیں گے۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ حکومتی ٹیم کے ساتھ اچھی مشاورت ہوئی، کچھ تجاویز ہم نے اور کچھ حکومتی کمیٹی نے دی ہیں۔حکومتی کمیٹی میں پرویز خٹک، قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، وزیر تعلیم شفقت محمود، پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہٰی اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر شامل تھے۔اپوزیشن کی جانب سے پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری اور فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال اور ایاز صادق، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے میاں افتخار حسین، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو اور جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) کے اویس نورانی نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…