ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

حسینؓ کا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں،یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے،مولانا فضل الرحمن ”مذاکرات“ کیلئے تیار، حیرت انگیز اعلان کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سکھر (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم حسینؓ کا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں،یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے، آزادی مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا فیصلہ نہیں ہوا، مذاکرات کیلئے تیار ہیں، حکومت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ دے۔سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف 27 اکتوبر کو پورے ملک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی میں شریک ہو گی،

حکومت نے کشمیریوں کا سودا کر کے ملک کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، آزادی مارچ ہو کر رہے گا اور 31 اکتوبر کو قافلہ اسلام آباد میں داخل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم حسینؓ کا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں اور یزید کیہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کیا اپوزیشن کی رہبر کمیٹی حکومتی کمیٹی سے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کرے گی۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سب اپوزیشن جماعتیں ایک پیچ پر ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں اور رہبر کمیٹی مشاورت سے حکومتی کمیٹی کو جواب دے گی۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہاں ٹھہرنے کی مدت رہبر کمیٹی طے کرے گی۔ حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کو روکنے کیلئے خندقیں کھودنے اور کنٹینر کھڑے کرنے سے متعلق سوال پر سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ حکومت کی خندق ہمارے لئے ہموار زمین ہے اور کنٹینرز کو ہم اٹھا کر پھینک دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ راستے بند نہیں کریں گے لیکن خفیہ طور پر دھمکیاں دی جا ری ہیں، لوگ پیدل اور خچروں پر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن حکومت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑدے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ میں کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن اس کمیٹی کے ٹی آو آرز تک نہیں بنائے گئے۔   انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد متفقہ فیصلہ ہوا کہ کوئی الیکشن ٹریبونل میں نہیں جائے گا، اْس وقت بھی حکومتی کمیٹی کے سربراہ بھی پرویز خٹک تھے، اب کیا ہو گا، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہم نے ہمت نہیں ہارنی ہے، پوری قوت کے ساتھ قوم کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کو حق حکمرانی حاصل نہیں ہے، عوام کو آزادی مارچ سے امید ہے اور تمام طبقات اس مارچ میں شرکت کر رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…